19/October/2026

نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور

👁️ 75 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور

نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور

تل ابیب(ڈیلی اردو) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ملک کی قومی سلامتی کے لیے نئی حکمت عملی پیش کرتے ہوئے ایران میں موجودہ نظام کے خاتمے، ممکنہ خطرات کے خلاف پیشگی فوجی کارروائیوں اور دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔ ان کے منصوبے میں آئندہ دس برس کے دوران دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مزید 450 ارب شیکل مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

نیتن یاہو نے اتوار کو اپنے دفاعی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں فوجی برتری برقرار رکھنا ہوگی اور خطرات سامنے آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے انہیں پہلے ہی روکنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ ان کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کی سلامتی سے متعلق ترجیحات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، جس کے تحت دفاعی تیاریوں کے ساتھ جارحانہ اور پیشگی کارروائیوں کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کو اپنے ملک کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ایرانی نظام کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے اہداف مکمل کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ یہ نیتن یاہو کے اعلان کردہ مقاصد ہیں، جن کے عملی نتائج اور مستقبل کی حکمت عملی کا انحصار خطے کی صورت حال پر ہوگا۔

دفاعی بجٹ کے حوالے سے نیتن یاہو نے آئندہ ایک دہائی میں 450 ارب شیکل، یعنی تقریباً 145 ارب ڈالر، اضافی دفاعی وسائل مختص کرنے کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق اس سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ زیر زمین جدید صنعتی مراکز قائم کرنے پر خرچ کیا جائے گا، جہاں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تیاری ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بیرونی ممالک، حتیٰ کہ امریکہ، سے دفاعی سازوسامان کی فراہمی پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

نیتن یاہو نے امریکہ میں مستقبل کی سیاسی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ آئندہ برسوں میں ایسا امریکی صدر بھی اقتدار میں آ سکتا ہے جو اسرائیل کے لیے مخالفانہ رویہ رکھتا ہو۔ اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے اسرائیل کی دفاعی اور صنعتی خود کفالت کو فوری ضرورت قرار دیا۔ تاہم، ان کا یہ بیان مستقبل کی امریکی قیادت کے بارے میں ایک خدشہ ہے، کسی طے شدہ سیاسی تبدیلی کی خبر نہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف پیشگی حملہ کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے، خواہ اسے امریکہ کی مدد حاصل نہ ہو۔ ان کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایران کے معاملے میں واشنگٹن کی حمایت کو اہم سمجھنے کے باوجود اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے زیادہ خود مختاری حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دفاعی منصوبے میں غزہ، لبنان اور شام سے ملنے والی سرحدوں پر حفاظتی انتظامات، رکاوٹوں اور سکیورٹی زونز کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ نیتن یاہو نے ترکی کے ساتھ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر ان کے مؤقف میں فرق ہے، تاہم وہ انقرہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اس کی روک تھام کے لیے داخلی سکیورٹی ادارے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے مذہبی یہودیوں، خصوصاً حریدی برادری، کی فوج میں بھرتی سے متعلق قانون آگے بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا، کیونکہ ان کے بقول فوج کو مزید اہلکاروں اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔

یہ اعلانات اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے چند روز قبل سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ نے انہیں ایران کے خلاف مشترکہ حکمت عملی میں اہم اتحادی قرار دیا، تاہم اس حمایت کے انتخابی نتائج پر اثرات ابھی واضح نہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو کی نئی سلامتی حکمت عملی میں فوجی برتری، جدید ٹیکنالوجی، اسلحے کی مقامی پیداوار اور بیرونی اتحادیوں پر انحصار کم کرنے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ناقدین کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا یہ منصوبہ اسرائیل کو طویل مدتی تحفظ فراہم کرے گا یا ایران اور دیگر علاقائی فریقوں کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C