وکی لیکس: سی آئی اے سابق اہلکار کو راز افشا کرنے پر 40 سال قید
👁️ 139 بار دیکھا گیا
وکی لیکس: سی آئی اے سابق اہلکار کو راز افشا کرنے پر 40 سال قید
واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی/وی او اے) امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک سابق سافٹ ویئر انجینئر کو سی آئی کی تاریخ میں معلومات کی سب سے بڑی چوری کے الزام میں 40 برس کی قید سزا سنا دی گئی ہے۔
امریکی شہر نیویارک میں مین ہٹن کی فیڈرل کورٹ نے جمعرات کو 35 سالہ جوشوا شولٹ کو سزا سنائی جنہوں نے 2017 میں وکی لیکس کو سی آئی اے کا ڈیٹا دیا تھا۔ جوشوا گزشتہ چار برس سے جیل میں ہیں۔
مین ہٹن کی فیڈرل کورٹ کے جج جیسی میتھیو فرمن نے سی آئی اے کے سابق اہلکار جوشوا کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ ان کے اقدام سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کبھی بھی مکمل طور پر معلوم نہ ہو سکے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک بہت بڑا نقصان تھا۔
وکی لیکس نے مارچ 2017 میں خفیہ دستاویزات شائع کرنا شروع کی تھیں جن کو وکی لیکس نے ’والٹ سیون‘ کا نام دیا تھا۔ ان دستاویزات میں خفیہ ادارے سی آئی اے کے الیکٹرانک جاسوسی اور سائبر وار فیئر سے متعلق معلومات سامنے آئی تھیں۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق والٹ سیون میں سامنے آنے والی دستاویزات میں یہ خفیہ راز بھی سامنے آیا تھا کہ سی آئی اے کس طرح بیرونِ ملک سرانجام دیے جانے والے آپریشنز میں ایپل اور انڈروئیڈ فون ہیک کرتی ہے۔ ان دستاویزات میں یہ بھی آیا تھا کہ وہ ٹیلی ویژن سیٹ جو انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہیں انہیں گفتگو سننے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سی آئی اے کے سابق اہلکار جوشوا شولٹ نے گرفتاری سے قبل سی آئی اے کے ورجینیا میں انٹرنیٹ گوڈنگ کرنے والے گوڈر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں جہاں انہوں نے ہیکنگ میں استعمال ہونے والے آلات کے لیے کوڈنگ بھی کی تھی۔
امریکہ کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ڈیوڈ ویلیم نے عدالت سے جوشوا کے لیے عمر قید کی سزا کی استدعا کی تھی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جوشوا نے ایسی خفیہ معلومات کو افشا کیا جس کا امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
عدالت نے جب جوشوا کو بولنے کا موقع دیا تو انہوں نے زیادہ تر اپنی قید میں بدترین حالات کا تذکرہ کیا۔ جوشوا نیویارک شہر میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں قید ہیں۔ انہوں نے جیل کے اپنے سیل کو پر تشدد پنجرہ قرار دیا۔
جوشوا شولٹ نے عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکیل نے ایک بار ان کو معاہدہ کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔ جس کے بعد انہیں 10 برس قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ لیکن اب وہ غیر منصفانہ انداز میں ان کی عمر قید کی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کے بقول انہوں نے سرکاری وکیل کی جانب سے معاہدے کی پیشکش کو اس لیے قبول نہیں کیا تھا کیوں کہ اس کے بعد وہ سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق کھو دیتے۔
جوشوا نے کہا کہ حکومت انصاف کی خواہش نہیں بلکہ وہ انتقام لینا چاہتی ہے۔
عدالت کے جج نے جوشوا کے بعض بیانات پر تنقید کی اور کہا کہ وہ اس معاملے میں کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کر رہے۔
جج نے مزید ریمارکس دیے کہ شولٹ نے کسی نیک مقصد کے لیے نہیں بلکہ سی آئی اے میں دیگر افراد کے خلاف عناد اور ناراضگی کے احساس کے سبب سب کچھ کیا تھا۔ ان افراد نے شولٹ کے کام کے طریقۂ کار کی شکایات کو نظر انداز کر دیا تھا۔
جج کا کہنا تھا کہ جوشوا شولٹ نے قید کے دوران بھی اپنے جرائم جاری رکھے۔ وہ مزید خفیہ دستاویزات لیک کرنا چاہتے تھے۔ ان کے کمپیوٹر میں ایک خفیہ فولڈر موجود تھا جس میں بچوں کے جنسی استحصال کی لگ بھگ 2400 ویڈیوز اور تصاویر موجود تھیں اور وہ جیل سے اس مواد کو دیکھ رہے تھے۔
فیڈرل کورٹ کے جج جیسی میتھیو فرمن نے اس کیس کی دو گھنٹوں تک سماعت کی۔ اس سماعت کے دوران انہوں نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن کے ایک خط کا بھی حوالہ دیا جو حکومت نے عدالت کو فراہم کیا تھا۔ اس خط میں ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے نے جوشوا شولٹ کے اقدام کو امریکہ کی قومی سلامتی اور سی آئی اے کے لیے غیر معمولی اور سنگین نقصان دینے والا جرم قرار دیا تھا۔
جوشوا شولٹ پر خفیہ دستاویزات افشا کرنے کے معاملے میں فردِ جرم جولائی 2022 میں عائد کی گئی تھی۔
گزشتہ برس ستمبر میں ان پر بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات کے تحت فردِ جرم بھی عائد ہوئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2009 سے 2017 کے درمیان اپنے لیپ ٹاپ میں بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز اور تصاویر ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔
فیڈرل کورٹ کے جج جیسی میتھیو فرمن کے مطابق جوشوا شولٹ نے اپنے جرائم پر ندامت کا بھی اظہار نہیں کیا۔
جوشوا کو سنائی گئی 40 برس قید کی سزا کے حوالے سے جج کا کہنا تھا کہ اس میں بڑا حصہ سی آئی اے سے چوری کی گئی معلومات کے جرم میں سنائی گئی ہے جب کہ بچوں کے جنسی استحصال کا مواد رکھنے کے جرم میں چھ سال اور آٹھ ماہ کی قید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد امریکہ کے اٹارنی ڈیمئن ولیمز کا کہنا تھا کہ جوشوا شولٹ نے امریکہ کی تاریخ میں جاسوسی کا بدترین جرم کرکے اپنے ملک سے غداری کی ہے۔
ڈیمئن ولیمز کا مزید کہنا تھا کہ جب ایف بی آئی نے جوشوا کو پکڑا تو انہوں نے پھر وہی جرم کرنے کی کوشش کی کہ اپنی قوم کو مزید نقصان پہنچائیں۔ وہ جیل کے اندر سے انتہائی خفیہ دستاویزات شائع کرنا چاہتے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 123 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 171 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 180 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 191 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8967 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4820 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3578 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3557 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2568 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2321 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C