05/January/2026

وینزویلا آپریشن: 15 ہزار امریکی فوجی، 11 جنگی جہاز اور درجنوں F-35 شریک

👁️ 194 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وینزویلا آپریشن: 15 ہزار امریکی فوجی، 11 جنگی جہاز اور درجنوں F-35 شریک

وینزویلا آپریشن: 15 ہزار امریکی فوجی، 11 جنگی جہاز اور درجنوں F-35 شریک

واشنگٹن (ڈیلی اردو/روئٹرز/سی بی ایس) امریکی  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح چار بج کر 21 منٹ پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ امریکہ نے ایک جرات مندانہ کارروائی کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

 

ٹروتھ سوشل پر ابتدائی پوسٹ کے سات گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے مادورو کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ ٹریک سوٹ پہنے، ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے اور آنکھوں پر ماسک تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مادورو کو یو ایس ایس آییوو جیما جہاز کے ذریعے امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں وہ منشیات اور اسلحے سے متعلق الزامات کا امریکی عدالت میں سامنا کریں گے۔

 

کارروائی کی منصوبہ بندی

 

خبررساں ادارے روئٹرز اور امریکی بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے مطابق یہ کارروائی کئی ماہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ امریکی ایلیٹ فورسز ڈیلٹا فورس نے مادورو کے سیف ہاؤس کی نقل تیار کر کے بارہا مشقیں کیں تاکہ کامیابی کی راہ ہموار ہو۔ سی آئی اے نے بھی زمینی ٹیم اور مادورو کے قریبی ذرائع کے ذریعے ان کی نقل و حرکت اور رہائش کی نگرانی کی۔

 

صدر ٹرمپ کے مطابق آپریشن کی منظوری چار دن قبل دی گئی تھی، تاہم فوجی حکام نے بہتر موسم کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا:’’ہم یہ کارروائی چار دن پہلے کرنے والے تھے، لیکن موسم موزوں نہیں تھا۔ اچانک موسم صاف ہوا اور ہم نے کہا، اب جاؤ۔‘‘

 

سی آئی اے کی اہم شراکت

 

سی بی ایس کے مطابق وینزویلا حکومت کے اندر موجود ایک امریکی مخبر نے مادورو کے مقام اور سرگرمیوں کی معلومات فراہم کی، جس نے کارروائی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی حکومت نے اس معلومات کے لیے 50 ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا تھا۔

 

بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی

 

پینٹاگون نے کارروائی سے قبل کریبیئن میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی، جس میں ایک طیارہ بردار جہاز، 11 جنگی جہاز، درجنوں ایف-35 طیارے اور 15 ہزار سے زائد فوجی شامل تھے۔ امریکی طیاروں نے کاراکس اور اس کے نزدیک اہداف پر حملے کیے تاکہ کارروائی کے دوران کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

 

کاراکس کے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں اتنی شدید تھیں کہ ایسا محسوس ہوا جیسے شہر لرز گیا ہو۔ امریکی حملے کے بعد فوجی اڈوں پر تباہ شدہ گاڑیوں اور تنصیبات کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئیں۔

 

مادورو کا سیف ہاؤس

 

صدر مادورو کے سیف ہاؤس پر امریکی فورسز نے دھاوا بولا، جسے صدر ٹرمپ نے “گھر سے زیادہ قلعہ نما” قرار دیا۔ سٹیل کے مضبوط دروازے چند سیکنڈز میں توڑ دیے گئے۔ مادورو نے سیف روم میں جانے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے اور امریکی فورسز نے انہیں گھیر کر حراست میں لے لیا۔

 

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجی زخمی ہوئے، لیکن کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ ایک ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا، تاہم وہ واپس اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔

 

ٹرمپ کا موقف

 

صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو تاریخی اور حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا:’’میں نے کئی اچھے آپریشن دیکھے ہیں، لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ اگر آپ نے کارروائی کی رفتار اور شدت دیکھی ہوتی، تو یہ واقعی ایک حیرت انگیز منظر تھا۔‘‘

 

صدر ٹرمپ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑنے کے بعد انہیں فوری طور پر یو ایس ایس آییوو جیما جہاز پر منتقل کیا گیا تاکہ وہ امریکی عدالت میں منشیات اور اسلحے کے الزامات کا سامنا کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C