15/September/2025

پاکستانی صدر کا چین کے اے وی آئی سی کا دورہ، دفاعی و فضائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

👁️ 483 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی صدر کا چین کے اے وی آئی سی کا دورہ، دفاعی و فضائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستانی صدر کا چین کے اے وی آئی سی کا دورہ، دفاعی و فضائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بیجنگ  (ڈیلی اردو/اے پی پی) پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو چین کے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (اے وی آئی سی) کے صدر دفتر کے دورے کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اور چین دفاعی پیداوار اور ہوا بازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور ہر طرح کے حالات میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کریں گے۔

 

اے وی آئی سی چین کا فلیگ شپ ایرو اسپیس اور دفاعی ادارہ ہے جو فوجی و سویلین طیاروں کی ڈیزائننگ اور تیاری میں مصروف ہے۔ صدر آصف زرداری نے جے-10 سی لڑاکا طیارے تیار کرنے والے کمپلیکس کا معائنہ کیا اور انجینئرز و سائنسدانوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انہیں جے 10 اور جے ایف 17 تھنڈر کی تیاری، جے 20 سٹیلتھ طیارے، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 

صدر مملکت نے کہا کہ جے 10 اور جے ایف 17 طیاروں نے پاکستان فضائیہ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے جس کا مظاہرہ مئی 2025 کے دوران "معرکہ حق" اور "آپریشن بنیان المرصوص" میں دیکھنے کو ملا۔ اس موقع پر انہوں نے اے وی آئی سی کو چین کی تکنیکی ترقی اور پاک چین پائیدار شراکت داری کی علامت قرار دیا۔

 

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں پاکستان فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق، ان کارروائیوں میں چین کے جے 10 سی لڑاکا طیارے استعمال کیے گئے جنہوں نے بھارتی رافیل طیارے کو بھی نشانہ بنایا۔ تاہم بھارت نے تاحال ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

 

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ کسی بھی غیر ملکی سربراہ مملکت کا اے وی آئی سی کمپلیکس کا پہلا دورہ ہے۔ صدر زرداری کے ہمراہ اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو بھی موجود تھیں۔

 

قابل ذکر ہے کہ چین گذشتہ چار دہائیوں سے کسی بڑی جنگ میں شریک نہیں ہوا لیکن اس دوران اپنی فوجی طاقت کو جدید بنانے اور ہتھیاروں کی تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق سنہ 2020 سے 2024 کے دوران پاکستان کی کل دفاعی درآمدات میں 81 فیصد ہتھیار چین سے حاصل کیے گئے، جبکہ 2015 سے 2019 اور 2020 سے 2024 کے درمیان مجموعی درآمدات میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔

 

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین سے جو ہتھیار حاصل کیے ہیں ان میں جدید لڑاکا طیارے، میزائل، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، جب کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے کئی ہتھیاروں میں بھی چینی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C