16/October/2025

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق

👁️ 365 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق

اسلام آباد + کابل (ڈیلی اردو/روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد بدھ کی شام 6 بجے (پاکستانی وقت) سے 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے اس مختصر جنگ بندی کو ’’اعتماد سازی‘‘ کا ابتدائی قدم قرار دیا ہے۔

 

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عارضی جنگ بندی کا مقصد ’’دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے ذریعے ایک مثبت اور دیرپا حل کی راہ ہموار کرنا‘‘ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’پاکستان اور افغانستان دونوں فریق خلوص نیت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

 

یہ پیشرفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاک افغان سرحد کے مختلف حصوں، بالخصوص کرم، چمن، اسپن بولدک اور ننگرہار کے علاقوں میں کئی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں دونوں جانب جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

 

پاکستانی فوج کے مطابق، افغان طالبان فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں متعدد حملے کیے، جن کا ’’مؤثر اور بھرپور جواب‘‘ دیا گیا۔ فوجی ترجمان کے بقول، افغان جانب سے توپ خانے اور ٹینکوں کے استعمال کے شواہد بھی ملے ہیں۔

 

دوسری جانب افغان حکام نے الزام لگایا کہ پاکستانی فورسز نے سرحد پار ان کے علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں عام شہری بھی متاثر ہوئے۔

 

طالبان حکومت کے وزارتِ داخلہ کے مطابق، قندھار کے اسپن بولدک میں پاکستانی مارٹر حملوں سے کم از کم 12 شہری ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

 

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، ’’اسلامی امارت نے تمام فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، تاوقتیکہ دوسری جانب سے اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔‘‘

 

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بندی ’’پاکستان کے دباؤ اور درخواست پر‘‘ عمل میں آئی ہے۔ تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں مؤقف اپنایا کہ ’’یہ جنگ بندی افغان طالبان کی درخواست پر طے پائی۔‘‘

 

دلچسپ امر یہ ہے کہ افغان ترجمان کے بیان میں 48 گھنٹے کی محدود مدت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنگ بندی بدھ کی شام 6 بجے (1300 عالمی وقت) سے 48 گھنٹے کے لیے نافذالعمل ہے۔

 

ادھر، بدھ کے روز بھی سرحدی علاقوں میں گولہ باری اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں کابل کی فضا میں دھواں اٹھتے دیکھا گیا، جس کے باعث یہ افواہیں پھیل گئیں کہ پاکستانی فورسز نے افغان دارالحکومت پر فضائی یا ڈرون حملہ کیا ہے۔

 

تاہم طالبان حکام نے بعد ازاں ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’’کابل کے مضافات میں ایک ایندھن اسٹیشن میں آگ لگنے سے دھواں اٹھا، جسے غلط طور پر حملہ سمجھا گیا۔‘‘

 

تجزیہ کاروں کے مطابق، دو روزہ جنگ بندی کو فریقین کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کی جانب ایک عارضی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے اعتماد سازی، رابطہ کاری اور سیاسی مذاکرات کی ضرورت باقی ہے۔

 

ایک اعلیٰ پاکستانی سفارتی ذریعے کے مطابق، ’’یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے، تاکہ دونوں حکومتیں اپنے نقصانات کا اندازہ لگائیں اور مذاکرات کے لیے مناسب فضا قائم ہو۔‘‘

 

دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، اور اگر جنگ بندی کی مدت میں کسی نئی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو حالات دوبارہ بگڑنے کا خدشہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C