18/May/2025

پاکستان اور انڈیا کی افواج کے درمیان مسلسل رابطہ، جنگ بندی پر پیش رفت جاری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

👁️ 210 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان اور انڈیا کی افواج کے درمیان مسلسل رابطہ، جنگ بندی پر پیش رفت جاری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

پاکستان اور انڈیا کی افواج کے درمیان مسلسل رابطہ، جنگ بندی پر پیش رفت جاری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی افواج کے درمیان ہاٹ لائن پر مسلسل رابطہ قائم ہے اور دونوں ممالک کی عسکری قیادتیں نہ صرف جنگ بندی کے لیے پرعزم ہیں بلکہ سرحدی کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دے رہی ہیں۔

اتوار کو جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ 10 مئی سے پاکستان اور انڈیا کی فوجی قیادت کے درمیان براہ راست رابطے بحال ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ڈی جی ایم اوز کی سطح پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ ”سیز فائر جاری ہے، 10 مئی سے ہاٹ لائن ایکٹو ہو چکی ہے۔ ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائر ہی نہیں بلکہ کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔ دونوں جانب سے شیڈول طے کیا جا رہا ہے کہ کون کب اور کہاں سے پیس پوائنٹ پر واپس جائے گا۔ یہ ایک منظم اور نتیجہ خیز عمل ہے جو کامیابی سے جاری ہے۔“

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اگر انڈیا کی جانب سے کوئی “مس ایڈونچر” ہوا تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں جب انڈیا نے نور خان ایئربیس، جیکب آباد، سکھر اور رحیم یار خان سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، تو دنیا نے پاکستان کے موثر ردعمل کو بھی دیکھا۔

نائب وزیراعظم کے مطابق دس مئی کی صبح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انڈیا جنگ بندی پر آمادہ ہے، جس پر پاکستان نے بھی رضامندی ظاہر کی۔ اسحاق ڈار کے مطابق “ہم نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اب ہماری توجہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔”

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا جائیگا

اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ وہ چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ جا رہے ہیں جہاں ان کی ملاقات افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ سے بھی طے ہے۔ ان کے بقول یہ دورہ دو طرفہ نہیں بلکہ سہ فریقی نوعیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پہلے ہی اپنے سفارتی وفود تشکیل دے دیے ہیں جو امریکا، برطانیہ، فرانس، برسلز اور روس سمیت دیگر ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ دنیا کو پاکستان کا مؤقف پیش کیا جا سکے۔

افغان طالبان سے بات چیت اور ٹی ٹی پی کا معاملہ

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی افغان طالبان قیادت سے ملاقاتوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور ٹی ٹی پی سے متعلق بھی کھل کر بات چیت کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ “سب کچھ ٹی وی پر نہیں بتایا جا سکتا۔”

دہشتگردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ”ہم نے 90,000 سے زائد جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا۔ ہمیں کوئی یہ نہ بتائے کہ دہشتگردی کیا ہوتی ہے۔“

انھوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی خواہش نہ کرو، لیکن اگر مسلط کی جائے تو پھر پوری قوت سے جواب دو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کے اغوا کا تعلق انڈیا سے جوڑا گیا، مگر پاکستان نے اس کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہ کسی ملک پر حملہ کیا، نہ میزائل داغے اور نہ ہی طیارے بھیجے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C