پاکستان سعودی عرب کو جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کریگا
👁️ 284 بار دیکھا گیا
پاکستان سعودی عرب کو جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کریگا
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ روئٹرز) خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو پاکستانی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سعودی عرب کے تقریباً دو بلین ڈالر کے قرضوں کو جے ایف سترہ جنگی طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کی بات چیت جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ہی یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ دونوں کے درمیان فوجی تعاون مزید گہرا ہو رہا ہے۔
جے ایف 17 جنگی طیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق یہ تازہ مذاکرات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ممالک دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے وعدوں اور وابستگی پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں اُن اہداف پر حملوں کے بعد طے پایا جنہیں اسرائیل نے حماس کے ٹھکانے قرار دیا تھا۔ دوحہ پر اسرائیلی حملوں نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستانی ذرائع میں سے ایک نے روئٹرز کو یہ بتایا کہ تازہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود تھی۔ یہ ہلکا جنگی طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
ایک دوسرے ذریعے کے مطابق، زیرِ غور مختلف آپشنز میں جے ایف-17 طیارے سب سے نمایاں اور ترجیحی انتخاب تھے۔
پہلے سورس کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر ہے جس میں دو بلین قرض کی تبدیلی کے علاوہ دو ارب ڈالر کا اضافی فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔
فوجی معاملات سے باخبر ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات چیت کی، کیونکہ انہیں ابھی اس معاہدے پر بات کرنے کی باضابطہ اجازت حاصل نہیں۔
سعودی عرب کے ایک میڈیا ادارے 'سعودی نیوز 50' نے پیر کے روز سوشل میڈیا ایکس پر یہ اطلاع بھی دی تھی کہ پاکستانی فضائیہ کے سربراہِ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، " دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون" سمیت دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں موجود تھے۔
میدانِ جنگ میں آزمودہ
ریٹائرڈ ایئر مارشل اور دفاعی تجزیہ کار امیر مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے حوالے سے یا تو بات چیت کر رہا ہے یا معاہدے طے کر چکا ہے۔ اس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور ان کے لیے الیکٹرانک و اسلحہ جاتی نظام شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے تاہم وہ ایسے مذاکرات کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکے۔
امیر مسعود نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی عالمی منڈی میں کشش میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ "یہ طیارہ آزمودہ ہے اور عملی جنگ میں استعمال ہو چکا ہے"، جبکہ یہ لاگت کے اعتبار سے بھی کافی مؤثر ہے۔
یہ طیارہ گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع کے دوران استعمال کیا گیا جو کئی دہائیوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان شدید ترین جھڑپیں تھیں۔
فوج، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے سرکاری میڈیا دفتر نے بھی ابھی تک کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
ستمبر میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ریاض اور اسلام آباد نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو نمایاں طور پر مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے، جس میں تربیت اور مشاورتی تعیناتیاں بھی شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب نے بارہا معاشی دباؤ کے ادوار میں پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔
2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں اسٹیٹ بینک میں تین ارب ڈالر کی جمع رقم اور تین ارب ڈالر مالیت کی تیل کی فراہمی مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر شامل تھی۔
اسلحہ فروخت کرنے کی کوششیں
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے دفاعی شعبے میں بیرونی روابط کو تیز کیا ہے کیونکہ وہ اسلحہ کی برآمدات بڑھانے اور اپنی مقامی دفاعی صنعت سے آمدن حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی حکومت سے وابستہ لیبیئن نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، جو ملک کی تاریخ کے بڑے دفاعی سودوں میں سے ایک ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کی ہے جس کے ذریعے وہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی اپنی دفاعی برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
منگل کے روز وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملکی اسلحہ جاتی صنعت کی کامیابی پاکستان کی معاشی صورتحال کو یکسر بدل سکتی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہمارے طیارے آزمودہ ہیں، اور ہمیں اتنے زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت نہ رہے گی۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 244 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 293 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 588 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 516 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 216 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 324 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3473 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C