28/October/2026

پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی جاگیر نہیں، ہم سب کا ہے، مولانا فضل الرحمان

👁️ 43 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی جاگیر نہیں، ہم سب کا ہے، مولانا فضل الرحمان

پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی جاگیر نہیں، ہم سب کا ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد (ڈیلی اردو) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی ملکیت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ملک ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورت حال کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا جارہا ہے تو بلوچستان میں حالات اس سے زیادہ خراب ہونے کے باوجود وہاں ایسا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا؟

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے، لیکن ملک میں برداشت کم ہوتی جارہی ہے اور سیاسی معاملات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے اور ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے نیا میثاقِ جمہوریت تشکیل دینا چاہیے۔

معتبر پاکستانی میڈیا، بشمول ایکسپریس نیوز اور اے آر وائی نیوز کی رپورٹس کے مطابق، مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو آئینی اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات اور امن و امان کے سنگین مسائل موجود ہیں، جہاں کمشنر کے اغوا جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تو وہاں وفاقی حکومت نے ایسا اقدام کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے خان آف قلات کے بیٹے کے مبینہ اغوا کا ذکر کرتے ہوئے بھی ریاست کی امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، دہشتگردی کے مسئلے کو سیاسی اختلافات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کے حل کے لیے سنجیدہ اور متفقہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد اور طاقت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوششیں صورت حال کو مزید خراب کرسکتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے دفاعی معاملات اور تہران میں جاری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی معاہدوں پر کہیں اور پیش رفت ہورہی ہے اور تہران میں مذاکرات جاری ہیں، جبکہ وزیراعظم اور وزیر دفاع قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔ انہوں نے حکومتی عہدیداروں کو اپنے منصب کے وقار کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر خواجہ آصف کی جانب دیکھ کر ان کے طنزیہ جملے پر ایوان میں قہقہے بھی بلند ہوئے۔

انہوں نے لانگ مارچ کے دوران حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاسی تصادم اور خون خرابے سے بچنے کے لیے رابطے کیے تھے، تاہم ان کی کوششیں مطلوبہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق، سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اور حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بیٹھ کر نیا میثاقِ جمہوریت طے کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو غیر آئینی اقدامات، سیاسی تصادم اور تشدد سے بچانا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملک کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، تاہم پاکستان کو کسی ایک ادارے یا فرد کی ملکیت سمجھنے کے بجائے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن تسلیم کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے خطاب کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر سنی جائے گی، تاہم غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کردیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق، اسپیکر نے ان کے خطاب کا ایک جملہ کارروائی سے حذف بھی کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C