09/October/2026

پیوٹن کی ایران کو یقین دہانی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادگی

👁️ 161 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پیوٹن کی ایران کو یقین دہانی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادگی

پیوٹن کی ایران کو یقین دہانی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادگی

ماسکو(ڈیلی اردو) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور تنازع کے سفارتی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ترکمانستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ ایران تنازع ختم کرنے کے لیے حقیقی کوششیں کر رہا ہے اور روس اس عمل میں معاونت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ماسکو کی کوشش ہوگی کہ موجودہ بحران کا ایسا حل نکلے جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

دونوں صدور ترکمانستان کے شہر آوازار میں ہونے والی علاقائی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ پیوٹن نے اس موقع پر روس اور ایران کے تعلقات میں پیش رفت کو بھی سراہا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں ممالک کے سیاسی اور فوجی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد ان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پر مغربی ممالک اور یوکرین تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یوکرین اور بعض مغربی حکومتوں کا الزام ہے کہ ایران نے روس کو شاہد طرز کے بغیر پائلٹ طیاروں کی ٹیکنالوجی اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کیے، جنہیں یوکرین جنگ میں استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب روس پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات سے متعلق اہداف کی نشاندہی کے لیے ایران کو معلومات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس ہفتے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دے چکے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی پیش رفت کے امکانات پر سوالات اٹھے ہیں۔ پیوٹن نے اس سے ایک روز قبل بھی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو میں جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مدد دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔

روس کے حالیہ رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے یا کسی معاہدے تک پہنچنے پر آمادہ ہو پائیں گے یا نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C