چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش
👁️ 216 بار دیکھا گیا
چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر دنیا میں تشویش
بیجنگ (ڈیلی اردو) چین نے پیر کے روز کہا کہ اس کی فوجی طاقت میں اضافہ عالمی امن کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ اس نے ایک تھنک ٹینک کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ آسٹریلیا پر چین کے براہ راست حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
تھنک ٹینک لوئی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ چین اب آسٹریلیا پر براہ راست میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور ہائپرسونک ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے اور بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزائر کی تعمیر کے باعث اس خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سڈنی میں قائم لوئی انسٹیٹیوٹ کے مطابق آئندہ ایک دہائی کے دوران آسٹریلیا تک حملہ کرنے کی چین کی صلاحیت مزید بڑھے گی، کیونکہ ڈی ایف-27 طرز کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ممکنہ طور پر روایتی ہتھیاروں سے لیس بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (آئی سی بی ایمز) کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔
چین نے پیر کے روز اس رپورٹ کو ''سنگین اسٹریٹیجک غلط فہمی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ بیجنگ ''پرامن ترقی کے راستے‘‘ پر گامزن ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''چین کی فوجی طاقت میں اضافہ دراصل عالمی امن کی قوتوں میں اضافے کی علامت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’چین کی عسکری صلاحیتوں کی ترقی کا مقصد قومی خود مختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ ہے، اور یہ ترقی کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
لوئی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کو بنیادی خطرہ ان چینی میزائلوں سے ہے، جو بحری جہازوں، آبدوزوں اور ایک نئے درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل کے ذریعے داغے جا سکتے ہیں، جو چین سے آسٹریلیا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ڈی ایف-27 میزائل کی مار 5 ہزار سے 8 ہزار کلومیٹر (3 ہزار 100 میل سے 5 ہزار میل) تک ہے۔
تاہم لوئی انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا کہ اس کی رپورٹ میں چین کی نیت نہیں بلکہ صرف اس کی عسکری صلاحیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
چینی ترجمان لن جیان نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ''نام نہاد چینی خطرے‘‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بند کریں اور چین کی ترقی کو معروضی، منصفانہ اور عقلی انداز میں دیکھیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے تین سال قبل چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحری قوت اور بیجنگ و واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تھی، جس کا محور شمالی سرحدی راستوں سے ممکنہ دشمن کو باز رکھنا ہے۔
چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور آسٹریلیا کی مجموعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ چین کو جاتا ہے۔ تاہم 2018 کے بعد سے مختلف تنازعات کے باعث دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، جس دوران بیجنگ نے آسٹریلوی مصنوعات پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔
البتہ 2022 میں آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے دوطرفہ تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے۔
اس کے باوجود آسٹریلیا بحرالکاہل کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کینبرا بحرالکاہل کے مختلف جزیرہ ممالک کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کر رہا ہے تاکہ بیجنگ کو خطے میں مستقل فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکا جا سکے۔ جنوبی بحرالکاہل کو طویل عرصے سے آسٹریلیا اور اس کے اتحادی ملک امریکہ کے دائرہ اثر میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
لوئی انسٹیٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے، ''چین کی تیز رفتار فوجی توسیع انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے توازن کو اس انداز میں تبدیل کر رہی ہے، جو آسٹریلیا کی سلامتی کو متاثر کرتا ہے، چاہے چین کے پاس آسٹریلوی سرزمین پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت ہو یا نہ ہو۔‘‘
اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم بحرالکاہل کے خطے میں جزائر سولومن کو تجزیہ کار چین کا قریبی شراکت دار تصور کرتے ہیں، خصوصاً 2022 میں بیجنگ کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طے پانے کے بعد سے۔ اس معاہدے نے امریکہ میں تشویش پیدا کر دی تھی اور آسٹریلیا کو بھی خطے میں اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کرنا پڑی تھیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
غزہ: اسرائیل کا حماس کے سکیورٹی ادارے کے اعلیٰ عہدیدار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
21/October/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی خبر امریکی سینٹکام نے مسترد کردی
21/October/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور
20/October/2026 👁️ 259 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15625 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11920 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9274 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7533 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5489 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C