20/October/2026

عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور

👁️ 62 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور

عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور

تہران(ڈیلی اردو) پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منگل 20 اکتوبر کو ایران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ملاقاتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں، علاقائی صورت حال اور جاری تنازع کے حل کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی حکام نے ملاقاتوں کے دوران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف بھی واضح کیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عاصم منیر سے گفتگو میں کہا کہ امریکا اس وقت تک تہران کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتا جب تک وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز پر عمل درآمد نہیں کرتا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق واشنگٹن کو پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاکہ مذاکرات کے لیے اعتماد کی فضا قائم ہوسکے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کے شعبے سے وابستہ محسن رضائی نے بھی کہا کہ ایران کا افزودہ جوہری مواد ملک کے اندر ہی رہے گا۔ تہران اس سے قبل بھی افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے اور یورینیم کی افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کرنے سے انکار کرچکا ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا اور بعض مغربی ممالک اس کے افزودگی کے ذخیرے اور جوہری سرگرمیوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات تک محدود رسائی کے باعث افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی موجودہ صورت حال کی تصدیق میں مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم اس کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے، منجمد اثاثے جاری کرنے اور مختلف محاذوں پر لڑائی روکنے جیسی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہے اور اس پر رابطے جاری ہیں۔

پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اختلافات اور دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث یہ کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں۔ الجزیرہ کے مطابق اس یادداشت کے مستقبل پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض تجزیہ کار اسے مذاکرات کی بنیاد بنانے کے حق میں ہیں، جبکہ دوسرے اسے عملی طور پر غیر مؤثر قرار دیتے ہیں۔

رائٹرز نے 20 اکتوبر کو ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ تہران فوری معاہدے کے بجائے واشنگٹن سے اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے اور اسے امریکا کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کا خدشہ بھی ہے۔ اس صورت حال میں عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ملاقاتوں کے بعد کسی نئے معاہدے یا مذاکرات میں پیش رفت کی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C