27/January/2025

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی: تہران اور واشنگٹن کے تعلقات منقطع ہوگئے

👁️ 94 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی: تہران اور واشنگٹن کے تعلقات منقطع ہوگئے

ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی: تہران اور واشنگٹن کے تعلقات منقطع ہوگئے

تہران (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی) ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے مابین کسی قسم کے پیغام کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا ہے۔

پیر 27 جنوری کو ایران کی ایک مقامی نیوز ایجنسی ISNA کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا کہ ”نئی امریکی انتظامیہ کو اقتدار سنبھالے چند ہی دن ہوئے ہیں اور اس دوران اب تک کوئی پیغامات کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔‘‘ اپنی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے امریکہ کو ایک تاریخی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار کرواتے ہوئے ایران پر پابندیوں میں ریلیف کے بدلے ایران پر شدید پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ٹرمپ ”ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی پر عمل درآمد کے قائل ہیں۔ اس ایٹمی معاہدے کو جس سے امریکہ دستبرادار ہوا تھا، اُسے جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب تک واشنگٹن دستبردار نہیں ہوا تھا، تب تک تہران اس معاہدے پر قائم رہا، لیکن پھر واشنگٹن کی دستبرداری کے بعد تہران نے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔

اس کے بعد سے 2015 ء کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جن میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا، ”ہمیں پُرسکون رہ کر اور صبر وتحمل کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔‘‘ ایرانی وزیر کا مزید کہنا تھاکہ تہران ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے پالیسیوں کے اعلان کے مطابق اقدامات کرے گی۔

گزشتہ جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملوں سے گریز کرتے ہوئے، معاہدے کی امید رکھتے ہیں۔

ایران نے بارہا اس معاہدے کو بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور گزشتہ برس جولائی میں اقتدار سنبھالنے والے صدر مسعود پیزشکیان نے ”اپنے ملک کی عالمی سطح پر تنہائی‘‘ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں ٹرمپ کی سرکاری طور پر وائٹ ہاؤس واپسی سے قبل، ایرانی حکام نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ہم منصبوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کیے تھے۔ اطراف نے اس بات چیت کو ”کھلا اور تعمیری‘‘ قرار دیا تھا۔

تخت روانچی نے کہا کہ یہ مذاکرات کا تیسرا دور تھا جس کے دو پہلے ادوار میں سے ایک جنیوا اور دوسرا نیویارک میں ہوا تھا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ بات چیت کا ایک اور دور ”ایک ماہ کے اندر‘‘ منعقد ہوگا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دور کی ”تاریخ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی ہے۔‘‘

ایرانی نائب وزیر خارجہ تخت روانچی نے کہا کہ ایران اور یورپی ممالک نے JCPOA کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنے کی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ،”ہم مذاکرات میں غیر جوہری مسائل کو شامل نہیں کریں گے، جیسا کہ JCPOA مذاکرات میں کیا گیا تھا۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C