22/September/2025

کراچی سے تین خواجہ سراؤں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

👁️ 445 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی سے تین خواجہ سراؤں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

کراچی سے تین خواجہ سراؤں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

کراچی (نمائندہ ڈیلی اردو /اے ایف پی) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب تین خواجہ سراؤں (ٹرانس جینڈر خواتین) کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ 

 

پولیس کے مطابق یہ لاشیں شہر کے مضافاتی علاقے میمن گوٹھ میں ایک شاہراہ کے کنارے سے ملی ہیں۔ تینوں خواتین کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا اور ان کی لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں۔

 

پولیس اہلکار جاوید احمد ابڑو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم مقتولہ خواتین کی شناخت اور قتل کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ابڑو کے بقول، ’’فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان قتل کی واردات کے پیچھے وجوہات کیا ہیں۔‘‘

 

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف بڑھتے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ 

 

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مقامی تنظیموں کے مطابق ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف جرائم کی درست تعداد سامنے نہیں آتی کیونکہ زیادہ تر کیسز یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔

 

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے کئی خول بھی ملے ہیں، جو فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔

 

سندھ کے وزیراعلیٰ نے اس اندوہناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا: ’’ٹرانس جینڈر افراد معاشرے کا ایک کمزور طبقہ ہیں، اور ان کے ساتھ تشدد یا امتیازی سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں بطور معاشرہ انہیں عزت اور وقار دینا ہوگا۔‘‘

 

یاد رہے کہ پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کو قانونی طور پر شناختی کارڈ اور حقِ رائے دہی جیسے بنیادی حقوق حاصل ہیں، تاہم سماجی سطح پر انہیں اب بھی شدید امتیاز اور تشدد کا سامنا ہے۔ کراچی اور خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران ٹرانس جینڈر افراد کے قتل کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر کیسز ابھی تک حل طلب ہیں۔

 

مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو نہ صرف قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا بلکہ ٹرانس جینڈر برادری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C