کراچی یونیورسٹی میں خاتون کا مبینہ خود کش حملہ، تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک، چار زخمی
👁️ 42 بار دیکھا گیا
کراچی یونیورسٹی میں خاتون کا مبینہ خود کش حملہ، تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک، چار زخمی
کراچی (ڈیلی اردو/وی او اے) کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کو لے جانے والی گاڑی کے قریب مبینہ خود کش دھماکے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی اساتذہ کو لے کر کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آ رہی تھی۔ کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کراچی یونیورسٹی میں چین کے شہر چنگڈو میں قائم سیچوان نارمل یونیورسٹی کےا شتراک سے 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے فوری بعد گاڑی میں آگ لگ گئی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق اساتذہ کی گاڑی کے قریب سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی دھماکے کی زد میں آیا۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کش دھماکہ تنظیم کی شیری بلوچ نامی خاتون حملہ آور نے کیا ہے۔
بعد ازاں دھماکے کی سی سی ٹی وی کیمرے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں نظر آ رہا ہے کہ اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکے کے وقت ایک خاتون موجود ہیں۔ البتہ ابھی پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب دھماکے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔ البتہ دھماکے کی نوعیت کا تعین بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کرنا ہے۔
https://twitter.com/Natsecjeff/status/1518921791774892039?t=HVwv2c_OE_izru4npoEizA&s=19
کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے چار افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں ایک رینجرز کا اہل کار اور ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کا گارڈ شامل ہے۔
واقعہ کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اساتذہ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتے تھے اور اپنی گاڑی سے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آ رہے تھے جب اس دھماکے کا نشانہ بنے۔
قبل ازیں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ یہ دھماکہ دن دو بجے کے لگ بھگ انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی دروازے کے بالکل سامنے ہوا۔
دھماکے بعد سیکیورٹی اہل کاروں نے جامعہ کراچی میں عام لوگوں کی آمد و رفت بند کر دی تھی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا تاکہ اس مقام سے شواہد جمع کیے جا سکیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دھماکے میں تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گاڑی کو ایک میٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے چین کے کراچی میں چینی قونصل خانے جا کر قونصل جنرل لی بیجیان سے ملاقات کی۔
انہوں نے ملاقات میں کراچی یونیورسٹی میں دھماکے میں چین کے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کراچی یونیورسٹی میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
I am deeply grieved on the loss of precious lives including of our Chinese friends in the heinous attack in Karachi today. My heartfelt condolences go to the bereaved families. I strongly condemn this cowardly act of terrorism. The perpetrators will surely be brought to justice.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 26, 2022
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے کا دورہ بھی کیا اور چین کی ناظم الامور پھینگ چنگ زو سے ملاقات کی۔
ملاقات میں انہوں نے کراچی میں دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے لیے خصوصی تعزیتی پیغام بھی تحریر کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنے” آئرن برادرز” پر وحشیانہ حملے پر پوری پاکستانی قوم صدمے اور غم کی حالت میں ہے۔
https://twitter.com/PMO_PK/status/1518946810676580352?t=3TC3Eo226DcX89Bc4XqmWw&s=19
‘یہ سی پیک پر حملہ ہے’
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور اس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان جاری تعاون پر براہِ راست حملہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں اور ان میں کام کرنے والے چینی عملے کی سیکیورٹی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں مبینہ خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی بلوچ لبریشن آرمی دیگر علیحدگی پسند عسکری تنظیموں کے ہمراہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملے کرتی رہی ہے۔ ان علیحدگی پسند تنظیموں کو سی پیک کے تحت بلوچستان میں چین کی سرمایہ کاری پر اعتراض ہے۔
سی پیک چین کے بلیٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کئی ممالک میں سرمایہ کاری کرکے مختلف منصوبے بنا رہا ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان میں کئی شاہراہیں، بجلی کے کارخانے اور بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔
پاکستان ملک میں ہونے والی بد امنی کا الزام عمومی طور پر پڑوسی حریف ملک بھارت پر لگاتا رہا ہے اور وہ بلوچ عسکریت پسندوں کی مالی مدد اور دیگر امداد کے لیے نئی دہلی کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ جب کہ بھارت ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
رواں برس فروری میں بھی بی ایل اے نے بلوچستان میں پاکستان کی فوج کے دو مراکز پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں تین دن تک فوج اور عسکریت پسندوں میں جھڑپیں جاری رہیں جن میں 9 فوجی اہل کار اور 20 حملہ آور مارے گئے تھے۔
بی ایل اے کو پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی کالعدم قرار دے چکا ہے۔
قبل ازیں بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر 2020 میں حملہ کیا تھا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں 40 فی صد حصہ چین کی ایک کنسورشیم کا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو پارکنگ میں ہی سیکیورٹی اہل کاروں کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں تمام حملہ آور مارے گئے تھے۔
گزشتہ برس جولائی میں کوہستان میں چین کے کارکنوں کی ایک گاڑی کو خود کش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ چینی کارکن چین کی مالی امداد سے تعمیر ہونے والے پن بجلی کے منصوبے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔
اس حملے میں نو چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یہ پاکستان میں چین کے شہریوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعہ تھا۔
Pakistan remains the most dangerous place for overseas Chinese workers which is a real problem. https://t.co/9sXfOutMLX
— Adam N Weinstein (@AdamNoahWho) April 26, 2022
امریکہ کے کوئنسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ایڈم وینسٹن کا سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہنا تھا کہ چین کے کارکنوں کے لیے پاکستان بدستور ایک خطرناک جگہ ہے جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چاغی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، بی ایل اے کے 2 دہشتگرد ہلاک
19/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
ادھم پور : سیکیورٹی آپریشن، جیش محمد کے 2 دہشتگرد ہلاک، مشتبہ سہولت کار گرفتار
18/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
جموں : لشکر طیبہ کے مبینہ سہولت کار گرفتار، راجوری سے شوپیاں تک دہشتگردوں کی مدد کا الزام
18/September/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
کوہاٹ مسجد حملہ، اتحاد المجاہدین پاکستان کا خودکش کارروائی کی ذمہ داری کا دعویٰ
18/September/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک
18/September/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
کوہاٹ: پولیس لائنز میں حملہ ، 21 اہلکار و شہری ہلاک،81زخمی ، 6 دہشتگرد ہلاک
18/September/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26316 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15558 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11844 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9155 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7439 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5205 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C