13/September/2025

کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، "یہ جگہ ہماری ہے"، اسرائیلی وزیراعظم کا اعلان

👁️ 423 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، "یہ جگہ ہماری ہے"، اسرائیلی وزیراعظم کا اعلان

کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، "یہ جگہ ہماری ہے"، اسرائیلی وزیراعظم کا اعلان

یروشلم (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز)  اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرنے جا رہے ہیں کہ "کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی"، کیونکہ ان کے بقول "یہ جگہ ہماری ہے۔" 

 

نیتن یاہو نے یہ بیان مقبوضہ مغربی کنارے کی متنازعہ بستی مالے ادومیم کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے باضابطہ طور پر اس تجویز پر دستخط کیے جس کے تحت مقبوضہ علاقے میں ہزاروں نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے میں ای ون (E1) کہلانے والے تقریباً 12 مربع کلومیٹر رقبے پر ساڑھے تین ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شامل ہے، جس سے مغربی کنارے کو کاٹ کر مشرقی یروشلم سے الگ کر دیا جائے گا۔ 

 

اس موقع پر نیتن یاہو نے کہا: "ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی۔ یہ سرزمین ہماری ہے۔ ہم اپنے ورثے، اپنی سرزمین اور اپنی سلامتی کی حفاظت کریں گے۔" 

 

فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تصور کرتے ہیں۔ یہ نکتہ عالمی برادری کے تجویز کردہ دو ریاستی حل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کی حمایت یورپی ممالک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کرتے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکومت کے اس نئے منصوبے کی جرمنی سمیت کئی مغربی ممالک نے مذمت کی ہے۔ 

 

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حالیہ فضائی حملے کی متفقہ طور پر مذمت کی ہے، تاہم بیان میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔ 

 

یہ بیان برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا تھا جسے امریکہ سمیت 15 ارکان نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔ اس میں کہا گیا کہ کونسل کے اراکین نے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی۔ 

 

اسرائیل نے منگل کو دوحہ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ امریکہ نے اس اقدام کو "یکطرفہ حملہ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے امریکی یا اسرائیلی مفادات کو تقویت نہیں ملتی۔ 

 

قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملہ کر کے غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "یہ حملہ اسرائیل کے ارادے کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ امن کے کسی بھی امکان کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی عوام کے مصائب کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کی کوششیں ہر صورت جاری رہیں گی۔ 

 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے بھی کونسل میں کہا: “یہ واضح ہے کہ قابض طاقت اسرائیل امن کے ہر امکان کو کمزور اور تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔”

 

 اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر ڈوروتھی شی نے اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رکن ملک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اسرائیل کے یرغمالیوں کو واپس لانے کے عزم پر سوال اٹھائے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ: "قطر کے اندر یکطرفہ بمباری اسرائیل یا امریکہ کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔

 

" اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اپنے خطاب میں کہا: “یہ حملہ ایک پیغام دیتا ہے کہ دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں۔ نہ غزہ میں، نہ تہران میں، نہ دوحہ میں۔ جہاں کہیں بھی دہشت گرد چھپے ہوں گے، ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔”

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C