26/October/2025

"ہم قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے"وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت کردی

👁️ 362 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
"ہم قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے"وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت کردی

"ہم قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے"وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت کردی

باڑہ (نمائندہ ڈیلی اردو/بی بی سی)  وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قبائلی امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کسی آپریشن یا ڈرون حملے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

 

باڑہ میں منعقد ہونے والے امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ  نائن الیون کے بعد ایک کے بعد ایک آپریشن اور ڈرون حملوں نے قبائلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا، مگر ریاست کی جانب سے آئی ڈی پیز سے کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔

 

وزیر اعلی  کہا کہ 2018 میں کہا گیا تھا کہ قبائل میں امن قائم ہو گیا ہے، مگر آج پھر سے آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہم اس بار قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں، اور کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت کریں گے۔

 

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کی بحالی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم اس بار کسی قسم کا کولیٹرل ڈیمیج برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کا ہوا، لہذا وفاقی حکومت اس کے ازالے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو 550 ارب روپے ادا کرے۔

 

سہیل آفریدی نے نیشنل فنانش کمیشن (این ایف سی) کا فوری اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سنیچر کو ضلع خیبر میں ’امن جرگے‘ سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اتفاقِ رائے کے بغیر شروع کی گئی۔ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو اپنے گھر بار، کاروبار چھوڑنا پڑے۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کئی فوجی آپریشن کیے گئے، ڈرون حملے یہاں معمول بن چکے تھے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سنہ 2018 سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایک بار پھر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

 

وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی فوجی آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیں گے اور اب ایک بھی جان جانے پر احتساب ہو گا۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ امن کے حصول کے لیے خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، لیکن کسی بھی حالت میں عام شہریوں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔

 

جرگے میں پارٹی قائدین، قبائلی عمائدین اور مشران کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C