یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
👁️ 28 بار دیکھا گیا
یوکرین اور روس کے مابین قیدیوں کا تبادلہ
ریاض + انقرہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی) روس اور یوکرین کے مابین رواں سال فروری سے جاری جنگ میں قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا ہے۔ رہائی پانے والے چند قیدیوں کو سعودی عرب اور بقیہ کچھ کو ترکی پہنچا دیا گیا، جہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک پہنچایا جائے گا۔
یوکرین نے آج 22 ستمبر کو روس کے ساتھ 215 قیدیوں کے تبادلے کا اعلان کیا۔ رہائی پانے والوں میں وہ یوکرینی فوجی بھی شامل ہیں، جو ماریوپول کے آزوفسٹال اسٹیل ورکس نامی پلانٹ کے دفاع کر رہے تھے۔ بدلے میں روس کے پچپن قیدی رہا کیے گئے۔ ان میں سے ایک وکٹور مدویدچک ہیں، جو سابقہ طور پر یوکرین کے ایک قانون ساز رہ چکے ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حامی مانے جاتے ہیں اور جن پر یوکرین میں غداری کا مقدمہ ہے۔ یوکرینی صدر وولودمیر زیلینسکی نے اپنی یومیہ بریفنگ میں قیدیوں کے تبادلے کی اس ڈیل کا اعلان کیا۔
اس سال فروری میں روسی حملے کے آغاز کے بعد فریقین کے مابین ہونے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ تھا۔ زیلنسکی نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے دس جنگی قیدیوں کو بھی بدھ کے روز ماسکو اور کییف کے درمیان ڈیل کے تحت سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ پانچ فوجی کمانڈروں کو ترکی پہنچا دیا گیا ہے، جن کی رہائی کی ڈیل کو ترک صدر رجب طیب ایردوگان کے ساتھ حتمی شکل دی گئی تھی۔ زیلینسکی کے بقول یہ فوجی جنگ کے خاتمے تک ‘مکمل حفاظت اور آرام دہ حالات میں‘ ترکی میں رہیں گے۔
ایک سعودی اہلکار نے اس تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کو منتقل کیے گئے جنگی قیدیوں میں پانچ برطانوی شہری، دو امریکی اور ایک ایک مراکش، سویڈن اور کروشیا سے ہیں۔ سعودی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ قیدی روس سے ان کے ملک پہنچ چکے ہیں حکام انہیں ان کے آبائی ممالک بحفاظت واپس پہنچانے کے طریقہ کار کو آسان بنا رہے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم لز ٹروس نے ٹویٹر پر لکھا کہ برطانوی شہریوں کی رہائی ‘انتہائی خوش آئند خبر ہے، جس سے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اور مصائب کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا‘۔
یوکرین میں جنگ نے کئی دہائیوں سے اہم اتحادی ممالک سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھائی ہے۔ گو کہ سعودی عرب نے روسی حملے کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا اور ماسکو سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم ریاض حکومت نے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بجائے ریاض نے OPEC پلس آئل کارٹیل کے ساتھ تعاون کیا، جس کی وہ روس کے ساتھ مشترکہ طور پر قیادت کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 36 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2121 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C