02/August/2025

یوکرین جنگ: روس کو بڑی وارننگ! امریکی آبدوزیں خفیہ مقامات پر تعینات

👁️ 405 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یوکرین جنگ: روس کو بڑی وارننگ! امریکی آبدوزیں خفیہ مقامات پر تعینات

یوکرین جنگ: روس کو بڑی وارننگ! امریکی آبدوزیں خفیہ مقامات پر تعینات

واشنگٹن + ماسکو (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روسی رہنما دمتری میدویدیف کے "اشتعال انگیز بیانات" کے ردعمل میں دو امریکی جوہری آبدوزوں کو "مناسب مقامات پر پوزیشن سنبھالنے" کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تاہم اُنہوں نے ان مقامات یا آبدوزوں کی نوعیت (نیوکلیئر پاورڈ یا نیوکلیئر آرمڈ) کی وضاحت نہیں کی۔

 

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹرتھ سوشل' پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا، “یہ احمقانہ بیانات صرف الفاظ سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ الفاظ اہم ہوتے ہیں، اور بعض اوقات ان کے غیر ارادی نتائج بھی سامنے آتے ہیں.  مجھے امید ہے کہ وہ وقت نہیں آئے گا۔

 

سابق روسی صدر اور روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے حالیہ دنوں میں متعدد سخت بیانات دیے ہیں، جن میں امریکی دباؤ کو "جنگ کی طرف ایک قدم" قرار دیا گیا۔ ٹرمپ نے روس کو "10 دن کے اندر" یوکرین جنگ بندی پر رضامند ہونے کی مہلت دی ہے، بصورت دیگر ماسکو اور اس کے تیل خریدنے والے ممالک، بشمول چین و بھارت، پر نئی تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

 

روسی ردعمل: “الٹی میٹمز کا کھیل”

 

میـدویدیف نے پیر کو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ٹرمپ پر "الٹی میٹمز کا کھیل کھیلنے" کا الزام عائد کرتے ہوئے یاد دلایا کہ روس اب بھی سوویت دور کی جوہری صلاحیت رکھتا ہے، جسے "آخری صورت" میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے بیانات کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ “مذاکرات اس وقت مکمل ہوں گے جب روس کے فوجی مقاصد پورے ہو جائیں گے۔”

 

پیوٹن کا نرم لب و لہجہ، لیکن مؤقف میں لچک نہیں

 

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ مزید مذاکرات کی امید رکھتا ہے، لیکن موجودہ جنگی صورت حال ان کے حق میں ہے۔ پیوٹن نے واشنگٹن کی ڈیڈ لائن کا براہ راست ذکر نہیں کیا تاہم کہا کہ “مایوسی کی جڑ غیر حقیقی توقعات ہوتی ہے۔”

 

انہوں نے کہا کہ امن کا حل صرف "سنجیدہ اور غیر علانیہ" مذاکرات سے ممکن ہے، جبکہ روسی وزارت دفاع نے یوکرین کے قصبے ’چاسیو یار‘ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جسے کیف نے مسترد کر دیا ہے۔

 

زیلنسکی کی براہ راست مذاکرات کی پیشکش

 

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیوٹن کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ "روس میں فیصلے کون کرتا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ “یوکرین اور امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اب صرف روس کی آمادگی درکار ہے۔”

 

دوسری جانب کریملن کا مؤقف ہے کہ جب تک مذاکراتی ٹیمیں کسی معاہدے پر نہیں پہنچتیں، اُس وقت تک سربراہان مملکت کی ملاقات ممکن نہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ٹرمپ اور میدویدیف کے بیانات سفارتی دباؤ کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہیں، تاہم جوہری آبدوزوں کی تعیناتی کا اشارہ صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

 مبصرین کا کہنا ہے کہ میدویدیف کے بیانات کریملن کے فیصلہ ساز حلقوں کی سوچ کے عکاس ہو سکتے ہیں، جبکہ پیوٹن کا نرم لہجہ سفارتی توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C