9/11 مقدمہ: عدالت نے خالد شیخ محمد کے ایف بی آئی بیانات بطور ثبوت مسترد کردیئے
👁️ 95 بار دیکھا گیا
9/11 مقدمہ: عدالت نے خالد شیخ محمد کے ایف بی آئی بیانات بطور ثبوت مسترد کردیئے
واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں سے متعلق طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمے کو ایک اور قانونی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ گوانتاناموبے میں قائم امریکی فوجی عدالت نے خالد شیخ محمد کی جانب سے ایف بی آئی کو دیے گئے اہم بیانات کو مقدمے میں شامل کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت کے مطابق یہ بیانات ایسے حالات میں حاصل کیے گئے جنہیں رضاکارانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فیصلے کے بعد 9/11 کیس میں استغاثہ کے لیے ایک اہم ممکنہ ثبوت ختم ہوگیا ہے۔
خالد شیخ محمد پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ ان حملوں میں نیویارک، پینٹاگون اور پنسلوانیا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عدالت کے فیصلے کا تعلق 2007 میں گوانتاناموبے میں ایف بی آئی اہلکاروں کی جانب سے کی گئی پوچھ گچھ سے ہے۔ دفاع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس وقت خالد شیخ محمد پر ماضی میں ہونے والے تشدد، طویل قید اور نفسیاتی دباؤ کے اثرات موجود تھے، اس لیے بعد میں دیے گئے بیانات کو آزادانہ اعتراف نہیں سمجھا جاسکتا۔
فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے قرار دیا کہ استغاثہ مطلوبہ معیار کے مطابق یہ ثابت نہیں کرسکا کہ ایف بی آئی کے سامنے دیے گئے بیانات مکمل طور پر رضاکارانہ تھے۔ امریکی فوجی کمیشن کے ریکارڈ میں بھی 28 اگست کو اسی بنیاد پر بیانات کو خارج کرنے سے متعلق عدالتی حکم درج ہے۔
خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں سی آئی اے کی خفیہ حراستی تنصیبات میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کی جانب سے ان سے کی جانے والی تفتیش میں واٹر بورڈنگ سمیت سخت طریقے استعمال کیے گئے تھے۔ بعد ازاں 2006 میں انہیں گوانتاناموبے منتقل کیا گیا۔
استغاثہ نے پہلے ہی سی آئی اے کی خفیہ حراست کے دوران حاصل کیے گئے بعض بیانات کو مقدمے سے الگ رکھا تھا، تاہم تازہ فیصلے کے باعث گوانتاناموبے میں ایف بی آئی کو دی گئی اعترافی گفتگو بھی اب مقدمے میں استعمال نہیں کی جاسکے گی۔
امریکی استغاثہ کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ موجود ہے۔ اگر اپیل کی گئی تو مقدمے کی کارروائی میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں عدالت نے خالد شیخ محمد اور تین دیگر ملزمان کے مقدمے کے آغاز کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی تھی۔
اعترافی بیانات کے اخراج کے بعد استغاثہ کو مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے دیگر دستیاب شواہد، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈز اور دیگر قانونی طور پر قابلِ قبول مواد پر انحصار کرنا ہوگا۔
9/11 مقدمہ 2012 میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سے مختلف قانونی تنازعات کے باعث مسلسل تاخیر کا شکار رہا ہے، بالخصوص تشدد اور حراستی حالات کے دوران حاصل کیے گئے شواہد کی قانونی حیثیت اس کیس کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام: مختلف مقامات پر حملے ، سکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار زخمی
01/September/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز : آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا
01/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا
31/August/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق
31/August/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
عراق: جنگی باقیات پھٹنے سے 2 افراد ہلاک، متعدد زخمی
31/August/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
چاغی: سکیورٹی چوکی پر حملہ ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک
31/August/2026 👁️ 131 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26263 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15508 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11791 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9087 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7375 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5054 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C