13/June/2025

اسرائیل نے ایران کے ’جوہری پروگرام‘ پر متعدد حملے کر دیے، 13 جنرلز ہلاک

👁️ 510 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل نے ایران کے ’جوہری پروگرام‘ پر متعدد حملے کر دیے، 13 جنرلز ہلاک

اسرائیل نے ایران کے ’جوہری پروگرام‘ پر متعدد حملے کر دیے، 13 جنرلز ہلاک

تہران + تل ابیب + واشنگٹن (ڈیلی اردو/رائٹرز/بی بی سی/اے پی/اے ایف پی) اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر ‘پیشگی حملے‘ کیے ہیں اور اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

ان کی جانب سے کیے گئے اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھیں ان حملوں کے بعد اسرائیل اور اس کے عام شہریوں پر مستقبل قریب میں میزائل اور ڈرون حملے کیے جانے کی توقع ہے۔

ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے متعدد حملے اس کے ’جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف پر ہیں۔‘

اہلکار کا کہنا ہے کہ اس میں ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں حملے شامل ہیں۔ اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے دور تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری پروگرام سے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار سی بی ایس نیوز نے متعدد سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی حکام کو بدھ کو اسرائیل کی جانب سے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ وہ ایران پر حملے کرنے جا رہا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

امریکہ کا اسرائیل کے حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے جانے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کے ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔

ان کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق ’آج رات اسرائیل نے ایران پر یکطرفہ کارروائی کی ہے۔ ہمارا ایران کے خلاف حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے اور ہماری اویلین ترجیح خطے میں امریکی افواج کی حفاظت ہے۔ اسرائیل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ کارروائی ان کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے اپنی افواج کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور وہ خطے میں اپنے شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ: ایران کو امریکی مفادات یا فوجیوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

اسرائیل نے تہران میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا: ایران کا دعویٰ

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے تہران اور دیگر شہروں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا ہے، بنیامن نتن یاہو

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے نے ’ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا ہے۔‘

نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی شہر نطنز میں ایران کی مرکزی جوہری افزودگی کے سینٹر کو نشانہ بنایا ہے جو ایران کے دارالحکومت سے 225 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2021 میں ایران نے اسرائیل پر اسی مرکز میں سائبر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایرانی ایٹمی بم پر کام کر رہے تھے۔

نتن یاہو نے کہا کہ یہ حملے اتنے دن تک جاری رہیں گے جتنے دن تک ہمیں اہداف پورے نہیں کر لیتے۔‘

نتن یاہو کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل نے کچھ لمحوں قبل آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کیا ہے جو اسرائیل کی بقا کے خلاف ایرانی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا آپریشن ہے۔ یہ آپریشن اتنے دن تک جاری رہے گا جب تک اس کے پھیلاؤ کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حالیہ مہینوں میں ایران نے ایسے اقدامات اٹھائے جو اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں اٹھائے تھے۔ یہ اقدامات افزودہ یورینیم کو ہتھیار میں بدلنے کے تھے۔ اگر ایران کو نہ روکا گیا تو یہ بہت کم وقت میں ایک جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سال میں بھی ہو سکتا ہے اور چند ماہ کے اندر بھی، ایک سال سے بھی کم عرصے میں۔ اسرائیل کی بقا کو واضح اور فوری خطرہ ہے۔‘

اسرائیلی حملوں میں پاسدران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، ایران

ایران کے سرکاری میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں پاسدران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے مقامی میڈیا پر بھی اس بارے میں اطلاعات دی جا رہی ہیں کہ اس جگہ پر آگ اور دھواں دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ‘ آج رات کے حملوں میں ایران کے سینیئر جوہری سائنسدان اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اسرائیلی حملے میں ہلاک، ایران

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ جوہری توانائی کی تنظیم کے سابق سربراہ فریدون عباسی بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب اسلامی کا قیام 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد نئے اسلامی نظام کے دفاع کے لیے عمل میں آیا تھا۔

پاسداران انقلاب اسلامی کی اپنی زمینی، بحری اور فضائی افواج ہیں جن میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 90 ہزار اہلکار ہیں۔ پاسداران انقلاب ایران کے بلیسٹک میزائل اور ایٹمی پروگراموں کی بھی نگرانی کرتا ہے۔

ایرانی کمانڈر ان چیف حسین سلامی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی ان اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے سب سے سینیئر ایران رہنما ہیں۔

سلامی نے ایران عراق جنگ کے آغاز پر پاسدارانِ انقلاب میں سنہ 1980 میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جیسے جیسے انھیں فوج میں ترقی ملی ان کے بارے میں یہ مشہور ہونے لگا کہ وہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔

21ویں صدی کے آغاز کے بعد سے انھیں ایران کی جوہری اور عسکری پروگرامز میں شمولیت کے باعث اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

وہ اس وقت ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ تھے جب سنہ 2024 میں ایران نے اسرائیل پر پہلا فوجی حملہ کیا تھا جس میں 300 ڈرونز اور میزائل داغے گئے تھے۔

جب اسرائیل کے ساتھ حالیہ دنوں میں تناؤ میں اضافہ ہوا تو سلامی نے جمعرات کو کہا کہ ایران ’کسی بھی قسم کی صورتحال، واقعات اور حالات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’دشمن سمجھتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اسی طرح لڑ سکتا ہے جس طرح وہ کسی دفاعی صلاحیت سے محروم فلسطینیوں سے لڑ رہا ہے جو اسرائیلی محاصرے میں ہیں۔ ہم نے جنگیں لڑی ہیں اور ہم تجربہ کار ہیں۔‘

ہم ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے ’ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا‘ لیکن یہ پروگرام ہے کیا؟

ایران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کی ایران کے آس پاس متعدد تنصیبات ہیں، جن میں سے کم از کم کچھ کو اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

لیکن بہت سے ممالک سمیت جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ بھی اس بات پر قائل نہیں کہ ایران کا پروگرام صرف سویلین مقاصد کے لیے ہے۔

ابھی کل ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف پیش کی گئی ایک قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔

گذشتہ ہفتے آئی اے ای اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک خالص یورینیم افزودہ ہے، جو ممکنہ طور پر نو جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ’سیاسی‘ ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی ’بھاری قیمت‘ چکانا ہو گی، ایران

ایران کی مسلح افواج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی ’بھاری قیمت‘ چکانا ہو گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترجمان ابوافضل شیخرچی نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج یقینی طور پر اس صہیونی حملے کا جواب دیں گی۔‘

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

میجر جنرل محمد باقری ایران کی اعلیٰ ترین فوجی شخصیت تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی، ایرانی جوہری تنظیم کے سابق سربراہ فردون عباسی اور آزاد یونیورسٹی کے صدر مہدی تہرانچی بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا: آئی اے ای اے کی تصدیق

جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح اسرائیلی حملوں میں نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اٹامک انرجی ایجنسی نے لکھا کہ ’ایران میں تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

آئی اے ای اے نے مزید کہا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ نطنز کی سائٹ پر تابکاری کی سطح کے ساتھ ساتھ ایران میں اپنے معائنہ کاروں سے رابطے میں بھی ہیں۔

عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سے ایران نے اپنی سرزمین پر اس پیمانے کی فوجی کارروائی نہیں دیکھی

قطر ایئرپورٹ پر فلائٹ انفارمیشن بورڈ سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ اس کے پڑوسی ملک عراق کے لیے بھی پروازیں یکے بعد دیگرے منسوخ کی جا رہی ہیں۔

ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی ایئرلائنز سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عراق جانے سے بھی گریز کر رہی ہیں۔

تہران کے اتحادی ایرانی اور عراقی پیرا ملٹری گروپس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی بھی حملہ، چاہے وہ اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے ہو، خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو خاص طور پر عراق میں ’جائز‘ اہداف بنا دے گا۔

گذشتہ روز میں نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے ایک مشیر سے بات کی، جنھوں نے مجھے بتایا کہ حکومت، ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے تاکہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو انھیں جوابی کارروائی سے روکا جا سکے کیونکہ بغداد کسی نئے تنازع سے بچنا چاہتا ہے۔

محمد شیاع السودانی کے ایک اور خارجہ پالیسی مشیر نے مجھے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ’یہ ویسا نہیں ہو گا جو ہم نے پہلے دیکھا۔‘

اور وہ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔۔۔

اگرچہ ہم نے ماضی میں ایران اور اسرائیل کو آمنے سامنے آتے دیکھا ہے لیکن ایران عراق جنگ کے بعد سے ایران نے اپنی سرزمین پر اس پیمانے کی فوجی کارروائی کا تجربہ نہیں کیا۔

یہ تازہ ترین حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے صرف دو دن پہلے ہوا۔ یہ مذاکرات اتوار کے روز مسقط میں ہونے ہیں لیکن اب غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ آیا اب بات چیت آگے بڑھے گی یا نہیں اور اس بارے میں پیشگوئی کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ اس خطے میں آگے کیا ہونا ہے۔

ایران نے اسرائیل کی جانب تقریباً 100 ڈرون داغے ہیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا ہے کہ ایران نے ’تقریباً 100 یو اے ویز اسرائیلی سرزمین کی طرف روانہ کیے جنھیں ناکارہ بنا دیا گیا۔‘

بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے مزید کہا کہ گزشتہ رات کے حملوں میں ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف، پاسدارن انقلاب کے کمانڈر اور ایران کی ایمرجنسی کمانڈ کے سربراہ مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

نطنز کے مقام پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا، آئی اے ای اے

اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح اسرائیلی حملوں میں نطنز میں ایران کے جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی اے ای اے نے مزید کہا تھا کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ نطنز کی سائٹ پر تابکاری کی سطح کے ساتھ ساتھ ایران میں اپنے معائنہ کاروں سے رابطے میں ہیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے دوبارہ اس حوالے سے ایکس پر اپ ڈیٹ دی ہے کہ انھیں ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ نطنز کے مقام پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا جبکہ دوسری جانب بوشہر جوہری پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

یاد رہے کہ نطنز ایران میں یورینیئم افزودگی کا اہم مقام ہے، جو تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ پلانٹ فروری 2007 سے کام کر رہا ہے۔

نومبر 2014 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ سہولت کم افزودہ یورینیم بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی، جس سے ایران کے جوہری ارادوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔

نطنز سائبر حملوں اور تخریب کاری کا بھی نشانہ بن چکا ہے، جس میں سٹکسنیٹ کمپیوٹر وائرس بھی شامل ہے، جو سنہ 2010 میں دریافت ہوا تھا اور اس کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی تھی۔

سنہ 2020 میں اس مقام پر آگ لگ گئی تھی اور ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پس پشت ’سائبر‘ تخریب کاری کی کارروائی تھی۔ سنہ 2021 میں ایران نے اعلان کیا کہ اس سہولت کو ’جوہری دہشت گردی کی کارروائی‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران پر اسرائیلی حملوں میں کون کون مارا گیا؟

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانا تھا اور اس میں ایران کی کئی اعلیٰ فوجی شخصیات اور جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے اب تک جن شخصیات کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

حسین سلامی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی نے ایران عراق جنگ کے آغاز پر پاسدارانِ انقلاب میں سنہ 1980 میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جیسے جیسے انھیں فوج میں ترقی ملی ان کے بارے میں یہ مشہور ہونے لگا کہ وہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ انھیں ایران کی جوہری اور عسکری پروگرامز میں شمولیت کے باعث اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہا۔

محمد باقری: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ میجر جنرل محمد باقری ایران کی اعلیٰ ترین فوجی شخصیت تھے۔

فردون عباسی اور مہدی تہرانچی: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایرانی جوہری تنظیم کے سابق سربراہ اور سائنسدان فردون عباسی جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک آزاد یونیورسٹی کے صدر مہدی تہرانچی بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے سرکاری میڈیا نے اسرائیلی حملے میں خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر غلام علی راشد کی ہلاکت کی تصدیق بھی ہے۔

اسرائیل نے ایران کی سینیئر قیادت کو بے مثال نقصان پہنچایا

اسرائیل کا ایران پر حالیہ حملہ نہ صرف گزشتہ برس کی دو سابقہ ​​فوجی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور شدید رہا بلکہ اسرائیل نے کچھ ایسی حکمت عملی بھی اختیار کی جو گذشتہ برس نومبر میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی میں استعمال کی گئی تھی۔

یہ حکمت عملی صرف ایران کے میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کی نہیں بلکہ ایرانی قیادت کے اہم ارکان کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے۔

حزب اللہ کی سینیئر شخصیات کی ہلاکت کے اس گروپ کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

تہران سے موصول ہونے والی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مخصوص عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ مناظر بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے مماثلت رکھتے ہیں، جن میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔

تاہم ایران میں حسن نصر اللہ جیسی کوئی بڑی شخصیت نہیں ماری گئی۔

سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف، مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری سمیت ملک کے سینیئر سائنسدانوں کو ایک ایسے آپریشن کے پہلے چند گھنٹوں میں ہی ہلاک کر دیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کئی دن تک جاری رہے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران کی طرف سے اس سے زیادہ سخت ردعمل کی ضرورت ہو گی جتنا ہم نے گذشتہ برس دیکھا تھا، جب ایران نے اسرائیل کی جانب بیلیسٹک میزائل داغے تھے مگر ایسے سخت ردعمل کے جواب میں ایران کو بھی شدید جواب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیل کو ’سخت ترین سزا کا انتظار‘ کرنا چاہیے: ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور متعدد فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کو ’سخت ترین سزا کا انتظار‘ کرنا چاہیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ’آج ہمارے پیارے ملک میں ایک جرم کا ارتکاب کیا اور اس کی مسلح افواج کو اس کی سزا دی جائے گی۔‘

پاکستانی کی ایران کے خلاف ’اسرائیل کی غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت کی‘ شدید مذمت

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ’اسرائیل کی غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت کی‘ شدید مذمت کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی فوج کے حملے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت بلکہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلا ف ورزی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ ان اشتعال انگیزیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے جو نہ صر ف پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرے کا باعث ہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

شفقت علی خان نے کہا کہ ’عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائیں۔ اس جارحیت کو فوری طور پر رکوائیں اور جارحیت کرنے والے ملک کا اس کے اقدامات پر محاسبہ کریں۔‘

ایران کے خلاف اسرائیل کا یہ گھناؤنا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادیں ہلا دینے کے مترادف ہے: پاکستان

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا یہ گھناؤنا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادیں ہلا دینے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی حملے ناقابل جواز اور قابلِ مذمت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے، یہ اقدام خطے کے امن اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا یہ گھناؤنا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادیں ہلا دینے کے مترادف ہے، پاکستان ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

اسرائیل نے ایران پر حملے کے لیے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا؟

ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے بارے میں قیاس آرائیاں برسوں سے گردش کرتی رہی ہیں لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران ان میں نمایاں طور پر شدت آئی۔ جمعرات کو امریکی میڈیا نے بھی اس بارے میں اطلاع دی تھی۔

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئے جوہری معاہدے پر بات چیت (جو اپریل سے جاری ہے) کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام جاری رہ سکتا ہے، ایک ایسی چیز جسے اسرائیل کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتا۔

اسرائیل برسوں سے خبردار کرتا آیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے 1990 کی دہائی کے وسط سے اسے ایک مستقل موضوع بنا رکھا ہے۔

دوسری جانب ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغربی طاقتیں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) اس سے مطمئن نہیں۔ جمعرات کو آئی اے ای اے نے ایران کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی۔

ایران پر حملے کے فوری بعد ہی نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے نظریاتی طور پر نو ایٹمی بم کے لیے مواد تیار کر لیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان آئی اے ای اے کے حالیہ جائزے کے مطابق ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کی ’بقا‘ کو خطرہ ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اب فائدہ اٹھا رہا ہے: ایران نے ابھی تک اپنے فضائی دفاع کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جو اکتوبر میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا اور اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور بھی ہونے والا ہے۔

خطرہ ہے کہ پہلے سے غیر مستحکم خطہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے مزید غیر مستحکم ہو جائے گا: پاکستانی وزیرِاعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں نقصانات پر ایرانی عوام سےاظہار ہمدردی کرتا ہوں، خطرہ ہے کہ پہلے سے غیر مستحکم خطہ اس سے مزید غیرمستحکم ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کےلیے اقدامات کرے، کشیدگی مزید بڑھی تو خطے اور عالمی امن کو نقصان پہنچ سکتاہے۔

اسرائیلی حملے میں متعدد جوہری سائنسدان ہلاک ہوئے: ایران

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں اس کے متعدد جوہری سائنسدان ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا میں اب تک جن سائنسدانوں کے نام سامنے آئے ہیں وہ کچھ یوں ہیں: عبدالحمید منوچہر، احمد رضا زلفگاری، سید امیر حسین فقہی، موطبلی زادہ، محمد مہدی تہرانچی اورفریدون عباسی۔

اردن کا اسرائیل کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ

اطلاعات کے مطابق اردن نے اسرائیل کی جانب داغے گئے متعدد ایرانی ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا۔

اے ایف پی کے مطابق اردن کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’رائل ایئر فورس کے طیاروں اور فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی صبح اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔‘

مسلم ملک اُردن کے دارالحکومت میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سائرن بجنے لگے جبکہ پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی۔

واضح رہے کہ اردن نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گا اور کسی بھی علاقائی تنازع میں ’میدان جنگ‘ نہ بننے کا عزم رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں اردن نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر فائر کیے گئے متعدد ڈرونز اور میزائلوں کو روک دیا تھا۔ اُردن کی جانب سے ایرانی ڈرونز اور میزائل فضا میں مار گرانے کے واقعے کے بعد دنیا کے مختلف مسلم ممالک نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔

تو اردن اسرائیل کی جانب بھیجے گئے ڈرونز اور میزائلوں کو کیوں مار گراتا ہے؟ بی بی سی نے اس حوالے سے گذشتہ برس ایک تحریر شائع کی تھی، جسے قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے

اسرائیل کا کہنا ہے کہ آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔

اب تک کے حملوں میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 200 طیارے شامل تھے لیکن کچھ رپورٹس ایک ایسے خفیہ عنصر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو یوکرین کے روسی ایئر بیس پر حالیہ ڈرون حملے سے ملتا جلتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اسرائیلی حملے سے قبل‘ دھماکہ خیز ڈرون ایران سمگل کیے گئے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان ڈرونز کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لانچرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

لیکن ایران نے آج ابھی تک جو ڈرون لانچ کیے ہیں وہ زیادہ تر علامتی لگتے ہیں: یہ تہران کے اسرائیل پر گذشتہ برس اکتوبر میں کیے گئے بڑے بیلسٹک میزائل حملے سے بہت کم ردعمل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسی مہینے کے آخر میں اسرائیل کی جوابی کارروائی نے ایران کے فضائی دفاع، میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنایا، جس سے تقریباً یقینی طور پر ایران کے مستقبل میں ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت میں کمی آئی۔

لیکن اپنے تمام تر سخت بیانات کے باوجود ایران کی براہ راست فوجی جواب دینے کی صلاحیت اب وہ نہیں رہی، جو پہلے تھی۔

’آگے ہونے والے حملے زیادہ ہلاکت خیز ہوں گے‘: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سب کچھ ختم ہونے سے قبل ایران کو معاہدہ کر لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے ایران کو معاہدے کرنے کے کئی مواقع دیے۔ ’میں نے ایران کو کہا کہ معاہدہ کر لیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اب اس صورتحال کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، آگے ہونے والے حملے زیادہ ہلاکت خیز ہوں گے۔‘

اسرائیلی حملے ’اعلان جنگ‘ ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو ’اعلان جنگ‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات اقوام متحدہ کو خط میں کہی۔

خط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ’فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے‘ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ بھی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وہ آج صبح اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ ایرو سپیس فورس کے کمانڈرز اسرائیل پر حملے کی تیاری کے لیے ایک زیر زمین ہیڈکوارٹر میں جمع ہو رہے تھے، جب اسرائیلی فوج نے اس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔

امیر علی حاجی زادہ سنہ 1962 میں تہران میں پیدا ہوئے اور 1980 میں پاسدران انقلاب میں شامل ہوئے۔ انھیں سنہ 2006 میں ایرو سپیس فورس کا کمانڈر تعینات کیا گیا تھا۔

جنوری 2020 میں تہران کے قریب یوکرین کا ایک جہاز پاسدران انقلاب کے میزائل سے تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حاجی زادہ نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا تھا تاہم اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایرانی حکام کی طرف سے مقرر کردہ کسی بھی سزا کو قبول کریں گے۔

اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کے بعد تبریز سے دھواں اُٹھ رہا ہے

گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران سوشل میڈیا پر شمال مغربی ایران کے شہر تبریز سے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔ نئی ویڈیوز میں شہر کے ہوائی اڈے کے احاطے کے اندر سے سیاہ دھوئیں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

بی بی سی ویریفائی نے شہر سے آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کا جائزہ لیا اور بتایا کہ یہ مقام مرکزی ہوائی اڈے کے رن وے کے قریب واقع ہے جہاں فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔

تبریز آج صبح آئی ڈی ایف کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ مشرقی آذربائیجان صوبے کے بحران کے انتظام کے سربراہ نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ شہر میں تین افراد ہلاک ہوئے، صوبے میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکے کی وجہ کیا ہے اور شہر بھر سے دھوئیں کے بادل نظر آ رہے ہیں۔

آئی ڈی ایف نے اپنے سرکاری چینلز کے ذریعے جاری آپریشن پر کسی نئے حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

نطنز میں جوہری تنصیبات پر حملہ

اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان نے اسرائیلی حملوں کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ نطنز میں جوہری مقام کو ’بُری طرح نقصان پہنچا ہے‘۔ یہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی کا مرکزی مقام ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی یہاں اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب عسکری ایٹمی پروگرام میں پیشرفت کے لیے استعمال کرتے تھے۔‘

’کئی برسوں سے ایرانی حکومت نے کوششیں کیں کہ اس مقام پر جوہری ہتھیار لائے جائیں۔‘

اس نے دعویٰ کیا کہ ہتھیار کے گریڈ کا یورینیئم حاصل کرنے کے لیے اس مقام پر تمام ضروری انفراسٹرکچر موجود تھا۔

ایرانی حکام نے آج انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنس کو بتایا تھا کہ تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

ایران کے پاس جوہری معاہدے کا ’دوسرا موقع‘ ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدہ کرے۔

انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بیان دیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران کے پاس جوہری معاہدے تک پہنچنے کا شاید ’دوسرا موقع‘ ہے۔

وہ لکھتے ہیں: ’دو ماہ قبل میں نے ایران کو ‘معاہدہ کرنے’ کے لیے 60 دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ انھیں یہ کرنا چاہیے تھا۔ آج 61واں دن ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ کیا کرنا ہے لیکن اب ان کے پاس دوسرا موقع ہے!‘

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت اتوار کو عمان میں اپنے چھٹے دور میں داخل ہونے والی تھی۔

اس سے قبل ایران نے امریکہ پر اسرائیل کے حملوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا جس کی واشنگٹن نے تردید کی تھی۔

اسرائیلی حملوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے: ایرانی سرکاری میڈیا

ایران میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ’نور نیوز‘ کا کہنا ہے کہ جمعہ کی علی الصبح تہران میں کیے گئے اسرائیلی حملوں میں 78 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوئے ہیں۔

نور نیوز نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر یہ خبر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اعدادوشمار غیرسرکاری ہیں۔

بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

اسرائیلی فوج کا ایک ڈرون گرانے کا دعویٰ

اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ اور نیوی نے ایران کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر اس واقعے سے متعلق آگاہ کیا ہے اور اس کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

جنرل عبدالرحیم موسوی ایران کی مسلح افواج کے نئے سربراہ تعینات

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا سربراہ تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

عبدالرحیم موسوی اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے جنرل محمد باقری کی جگہ لیں گے۔ جنرل باقری اُن اعلیٰ فوجی شخصیات میں شامل ہیں جنھیں اسرائیل نے ایران پر حملے کے پہلے روز ٹارگٹڈ کارروائیوں میں ہلاک کیا ہے۔

سنہ 1960 میں ایران کے مقدس شہر قم میں پیدا ہونے والے عبدالرحیم موسوی سنہ 2017 سے ایران کی بری فوج میں بطور کمانڈر انچیف فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق انھیں اگست 2017 بریگیڈیئر جنرل کے عہدے سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اور اس کے بعد ان کی بطور بری فوج کے کمانڈر انچیف تعیناتی کی گئی تھی۔

ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ

اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لیکن نیو یارک میں کاروباری روز کے آغاز پر سٹاک مارکیٹوں سے آنے والا ردعمل کوئی خاص نہیں ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری حضرات کو فی الحال یہ یقین نہیں ہے کہ معاملات کس سمت میں آگے بڑھیں گے یا کتنے خراب ہوں گے۔

ایس اینڈ پی 500 اور نسداک میں کاروبار کے پہلے گھنٹے میں ایک فیصد سے بھی کم گراوٹ دیکھی گئی۔

تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں چیزوں کی قیمتیں بڑھیں گی۔

فی الحال برینٹ کروڈ کا بینچ مارک سات فیصد بلند ہو کر فی بیرل 73 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دارومدار اس بات پر بھی ہو گا کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کتنا عرصہ جاری رہتی ہے۔

’اسرائیل کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘ محمد پاکپور

پاسداران انقلاب کے نئے سربراہ محمد پاکپور کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ’تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

انھیں اپنے پیشرو کی ہلاکت کے بعد پاسداران انقلاب کا نیا سربراہ بنایا گیا ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران حملے میں ہلاک ہونے والوں کا ’انتقام‘ لے گا۔ اس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے ایران کی ’قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

تہران کے جنوب میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات

ایران کی پاسداران انقلاب فوج سے منسلک فار نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران کے جنوب میں واقع فوردو جوہری تنصیب کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں۔

فوردو تہران کے جنوب میں واقع ہے اور یہ قم کے مرکزی شہری سے تقریباً 20 میل شمال مشرق میں ہے۔ یہ جوہری تنصیب 100 میٹر زیر زمین ہے۔ اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس ملی تھیں کہ لوگوں نے وہاں دھماکوں کی آوازیں سنی تھی۔

امریکہ اور اعلیٰ یورپی طاقتوں نے اس سے قبل اس مخصوص جوہری تنصیب میں 83.7 فیصد خالصتاً افزودہ یورینیم کے ذرات کی دریافت پر خطرے کا اظہار کیا تھا۔

جمعے کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے نطنز میں جوہری پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ کے باہر تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن اندر موجود تابکار آلودگی کو ’مناسب حفاظتی اقدامات‘ کے ساتھ سنبھالا جا سکتا ہے۔

ایران کو معاہدے کرنے کے لیے اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی: ڈونلڈ ٹرمپ

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اس نے ٹیلی فون پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی ایران کا جوہری پروگرام موجود ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’کوئی نہیں جانتا، ایران کے لیے یہ بہت شدید دھچکا ہے۔‘

انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ اب بھی اتوار کو جوہری صلاحیت سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں موجود ہے مگر یہ پتا نہیں کہ ایران بات چیت کرنے کو تیار ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو معاہدے کرنے کے لیے اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

یمن سے اسرائیل پر میزائل داغا گیا: اسرائیلی فوج کا دعوی

اسرائیل کے سرکاری ریڈ الرٹ سسٹم کے مطابق یروشلم کے فضائی دفاعی نظام کو کچھ ہی دیر قبل متحرک کیا گیا گور بعدازں اسے بند کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی طرف ایک راکٹ داغا گیا ہے۔ اور اسے فضا میں نشانہ بنانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ’یروشلم ڈسٹرکٹ پولیس ان علاقوں کا پتہ لگانے اور چھان بین کے لیے تیار ہے جہاں ہتھیار گرے ہیں۔‘

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں، اسرائیلی فوج کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کچھ دیر قبل اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں اور اس کا دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کو اگلی اطلاع تک محفوظ مقامات میں پناہ لینے کو کہا گیا ہے۔

’ایرانی مسلح افواج اسرائیلی حکومت کا برا حال کر دے گی‘: خامنہ ای

ایران پر اسرائیل کے حملوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے دوسرے پیغام میں کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ’طاقت کے ساتھ جواب دیں گی اور اسرائیلی حکومت کا برا حال کر دیں گی۔‘

اپنے پیغام میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو ’اس جرم کی سزا دی جائے گی‘ اور ’ایرانی قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ اس ضمن میں کوئی سستی نہیں کی جائے گی۔‘

جمعہ کی صبح ایران پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کا یہ دوسرا پیغام ہے۔ اس سے قبل اپنے پہلے پیغام میں انھوں نے اسرائیلی حملوں کو ’جرم‘ قرار دیا تھا اور اسرائیل کو ’تلخ انجام‘ کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیل کا اصفہان میں ایرانی جوہری پلانٹ کو تباہ کرنے کا دعویٰ

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اصفہان میں موجود ایران کے جوہری پلانٹ کو تباہ کر دیا ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے جوہری مقام پر حملہ کیا، جہاں افزودہ یورینیم کی بحالی کا عمل ہوتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہاں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کا اگلے مرحلے پر کام کیا جاتا تھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’میٹالک یورینیم تیار کرنے کی سہولت، افزودہ یورینیم کو تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے، لیبارٹریز اور اضافی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔‘

ایران کا اسرائیل پر جوابی میزائل حملہ: تل ابیب میں عمارتوں کے قریب دھوئیں کے بادل

ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں تل ابیب کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیلی شہر تل ابیب کی بلند عمارتوں کے ارد گرد دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

تل ابیب میں ہنگامی سائرن بج رہے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات میں پناہ لینے کا کہا گیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً 100 میزائل داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا پر جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ میزائلوں کو اسرائیلی فضائی اور میزائل ڈیفنس نے روکا اور تباہ کر دیا، جبکہ کم از کم ایک میزائل وسطی تل ابیب میں گرا ہے۔

ایران کے تل ابیب پر حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے

اسرائیل کی قومی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے میٹروپولیٹن علاقے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جنھیں ہسپتال منتقل کیا جایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بیان میں کہا ہے ان زخمیوں میں سے ایک کو زیادہ زخم آئے ہیں جبکہ دیگر چار چھرے لگنے سے ’معمولی زخمی‘ ہوئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کا دو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج نے کم از کم دو اسرائیلی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے ہیں۔

تاہم اب تک اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسرائیل کا مقصد ایرانی حکومت کو ’روکنا‘ ہے: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اب سے کچھ دیر قبل اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ سے متعلق ایک بیان پوسٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ملک کے ایران پر حالیہ حملوں کا مقصد ’ایرانی حکومت کے جوہری اور بیلسٹک میزائل کے خطرے کو روکنا ہے۔‘

خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایران کی قیادت کے خلاف ہے۔

انھوں نے اسرائیل کی طرف سے نشانہ بنائے جانے ایرانی اہداف کے متعلق بتایا جن میں عسکری اور جوہری مقامات بھی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مزید حملے راستے پر ہیں۔ ایرانی حکومت نہیں جانتی کہ ان کا کس سے سامنا ہوا ہے، یا ان پر کیا اثر پڑے گا۔‘

انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپ کا موقع ہے کہ آپ کھڑے ہو جائیں اور اپنی آوازیں اٹھائیں۔‘

انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکام بنانا ہے جسے وہ اسرائیل کے لیے ’خطرے‘ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

ان کا ایرانی عوام سے اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ’جیسا کہ ہم اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں، ہم آپ کے لیے آپ کی آزادی کے حصول کا راستہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام اپنے جھنڈے اور اس کی تاریخی میراث کے گرد متحد ہو کر شیطانی اور جابر حکومت سے آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔‘

ایران کے اسرائیل پر حملوں میں 40 افراد زخمی

ایران کے اسرائیل پر تازہ ترین بیلسٹک میزائل حملے میں 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمی افراد اسرائیل کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

تل ابیب کے اچیلوف ہسپتال میں 18 افراد زیر علاج ہیں۔ جبکہ پیٹہ ٹکوا میں بیلنسن ہسپتال میں سات افراد زیر علاج ہیں جن میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

رامت گان میں شیبا ہسپتال 15 مریضوں کا علاج کر رہا ہے، جن میں تشویشناک حالت والے مریض بھی شامل ہیں۔

زخمی افراد کو چھرے لگنے، دھواں بھرنے اور دھماکے سے پہنچنے والے صدمے کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے۔

اصفہان اور فردو کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، آئی اے ای اے

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے فردو اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے انھیں آگاہ کیا لیکن ان کے پاس اس حوالے سے مزید معلومات نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جمعہ کی صبح سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں نطنز کے جوہری پلانٹ کے زمین کے اوپر والے حصے سمیت کچھ حصے ’تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی کا کہنا ہے کہ ان جوہری تنصیبات کے اندر ریڈیائی اور کیمیائی آلودگی ہے لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ایران نے شہری علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’ریڈ لائن‘ عبور کی: اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے حملوں کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں سے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر ’ریڈ لائن ‘ عبور کی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایران نے اسرائیل میں شہری آبادی کے مراکز پر میزائل فائر کرنے کی جرات کرکے ریڈ لائن عبور کی ہے۔‘

انھوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم اسرائیل کے شہریوں کا دفاع جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آیت اللہ حکومت کو اپنے گھناؤنے اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے۔‘

اس سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں ’درجنوں اہداف، فوجی مراکز اور فضائی اڈوں‘ پر حملے کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کی اسرائیلی پائلٹ پکڑے جانے کی تردید

اسرائیلی فوج نے ایرانی میڈیا کی جانب سے اسرائیلی پائلٹ کے پکڑے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کے فضائی دفاع نے دو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے اور ’ان لڑاکا طیاروں میں سے ایک کی پائلٹ، جو کہ ایک خاتون ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

اسرائیل ڈیفنس فورسز کے عربی میں ترجمان، ایواچی ایدرے کا کہنا ہے کہ ’جعلی ایرانی کی طرف سے پھیلائی جانے والی یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔‘

ایران نے سلامتی کونسل اجلاس میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا

ایران نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔

نیویارک میں ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے مندوب، امیر سعید ایراونی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ حملوں میں ملک کے جوہری تنصیبات، شہری انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس ایران کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں اب تک 78 افراد ہلاک اور 320 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں – ان میں سے ’اکثریت‘ عام شہریوں کی ہے۔

ایراونی کا کہنا ہے کہ ’دانستہ اور منظم‘ ہلاکتیں ’محتاط جارحیت کا مظاہرہ‘ ہے۔

انھوں نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان جرائم کے لیے ’امداد اور تعاون ” فراہم کرنے کے بعد ’مشکل‘ میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ امریکی ہتھیاروں سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں کی جانیں گئیں۔‘

انھوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرے اور اس کا احتساب کرے۔

’ایرانی حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن کافی تباہی ہوئی‘

اسرائیل کے ہیریٹز اخبار کے صحافی اور تل ابیب کے رہنے والے گیڈون لیوی نے اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بارے میں بی بی سی سے بات کی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے لیے ایک انٹرویو میں لیوی جو تل ابیب میں ایک محفوظ مقام پر پناہ لیے ہوئے تھے نے بتایا کہ ’ہم نے دھماکوں کی بہت زور دار آواز سنی۔ یہ کوئی بہت خوشگوار احساس نہیں تھا۔‘

اس سوال پر کہ آیا ایرانی میزائلوں کو روکا گیا یا وہ شہر میں گرنے میں کامیاب رہے پر انھوں نے بتایا کہ ’کچھ کو دفاعی نظام نے روک لیا گیا، لیکن کچھ گرے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم دو واقعات ایسے تھے جہاں وہ براہ راست عمارتوں پر گرے اور انھیں جزوی طور پر تباہ کر دیا۔‘ انھوں نے کہا ان حملوں میں ’کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن لوگ زخمی ہوئے ہیں اور کافی تباہی ہوئی ہے۔‘

اسرائیل ’اپنی تباہی کو روکنے‘ کیلئے کام کر رہا ہے: اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف ’اپنے ملک کی تباہی کو روکنے‘ کے لیے کام کر رہا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر کے ’اپنی تباہی کو بچانا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے دشمن کا علم ہے، ان کی سوچ و نظریے کا پتا ہے، اور جب کوئی حکومت بیلیسٹک میزائل تیار کرے، ہتھیار بنانے والی یورینم کی افزودگی کرے اور کھلے عام ہمیں تباہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرے۔۔۔ تو ہم اس پر یقین رکھتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی اور جوہری سائنسدانوں کی خدمات حاصل کرنے کی وجہ سے اسرائیل اس اقدام پر مجبور ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے لوگوں کی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ ہم نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ یروشلم میں یہودی بچے جوہری حملے کی وجہ سے بجائے گئے ہنگامی سائزن کی آواز سے بیدار نہ ہوں۔‘

قبل ازیں ایران کے سفیر نے اپنے خطاب میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا تھا۔

تہران میں مہرآباد ائر بیس پر آگ اور دھوئیں کی اطلاعات

اب ہمیں ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک ہوائی اڈے پر آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے یف پی نے اپنے ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مہر آباد ہوائی اڈے سے آگ اور گہرا دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔

ایران کی نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کے علاقے میں ایک ’دھماکہ‘ ہوا ہے اور اس نے ایک تصویر شیئر کی جس میں علاقے سے شدید دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

کشیدگی کو روکنے کا وقت آ گیا ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر بڑھتے حملوں کے درمیان عالمی رہنماؤں نے تحمل اور کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے ایران اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کو روکیں۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی بمباری. تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے، یہ کافی کشیدگی ہے۔ اب اسے روکنے کا وقت ہے، امن اور سفارت کاری کو غالب ہونا چاہیے۔‘

یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے جاری صورتحال کے بارے میں بات کی ہے۔

انھوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’میں نے اسرائیل کے اپنے دفاع اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے حق کو دہرایا۔ ساتھ ہی ساتھ، علاقائی استحکام کا تحفظ بھی ضروری ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ تمام فریقوں پر زور دیتی ہیں کہ وہ ’زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں‘ اور کشیدگی کو کم کریں۔

اسرائیلی حملوں کی حمایت سے ٹرمپ نے خطرہ مول لیا ہے

اسرائیل اور ایران کے بڑھتے تنازعے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے موقف میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جب جمعے کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فوری طور پر اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے دوری اختیار کی۔

لیکن اب صدر اس آپریشن کو مزید کھلے دل سے قبول کرنے لگے ہیں۔ وہ اسے ’بہترین‘ کے طور پر بیان کر رہے اور ان حملوں میں استعمال ہونے والے ’امریکی عسکری سازوسامان‘ کی تعریف کر رہے ہیں۔

ہم نے وائٹ ہاؤس سے یہ بھی سنا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد کرتے رہے ہیں۔

داخلی طور پر یہ صدر ٹرمپ کو ایک خطرناک پوزیشن میں لا کھڑا کرتا ہے۔ ریپبلکن اور اس کی بنیاد میں اسرائیل کے لیے حمایت مضبوط ہے۔ لیکن غیر ملکی جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

ٹرمپ بہت عرصے سے نئی جنگوں کو شروع کرنے کی جاری جنگوں کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں لڑائی رکوا سکتے ہے اور غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

حتیٰ کہ آج بھی انھوں نے اتوار کو ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کا خیال پیش کیا، لیکن تہران اس سے دستبردار ہو گیا ہے۔

سیاست کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا نام ہے اور صدر ٹرمپ ان اہم وعدوں میں سے کچھ کو پورا نہ کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

اگر ایران نے امریکہ کو نشانہ بنایا تو اس کے نتائج ’سنگین‘ ہوں گے: امریکا

امریکی بیورو کے اہلکار میک کوئے پٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران پر اسرائیلی حملے سے قبل ’آگاہ‘ کیا گیا تھا اور اسرائیل نے کہا تھا کہ یہ ’اس کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔‘

انھوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’امریکہ کو حملوں کے بارے میں وقت سے پہلے مطلع کر دیا گیا تھا لیکن وہ (امریکہ) ان حملوں میں عسکری طور پر شامل نہیں تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری پہلی اور اولین ترجیح خطے میں امریکی شہریوں، اہلکاروں اور افواج کا تحفظ ہے۔‘

پٹ کہتے ہیں کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں، اڈوں یا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ’ایران کے لیے اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا موقف ہے کہ ایران کو معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ ’سفارتی حل‘ کی کوشش کریں گے۔

’ایران کی قیادت کے لیے اس وقت مذاکرات کرنا دانشمندی ہوگی۔‘

ایرانی میزائل حملوں میں تل ابیب میں ہونے والے نقصان کے مناظر

ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے میں متعدد بیلسٹک میزائل اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر گرے ہیں جس سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل پر 100 سے زائد میزائل داغے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد 100 سے کم تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے جواب میں تحمل کا مطالبہ غیر منصفانہ ہے: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے تحمل سے کام لینے کے مطالبات ’غیر منصفانہ‘ ہیں۔

ٹیلی گرام پر ایک بیان میں سید عباس عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں بیان کیا۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ کو بتایا کہ اسرائیل کے اقدامات سے ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور انھوں نے اسرائیلی حکومت کی یورپی حمایت پر تنقید کی۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کا جواب ’طاقتور‘ ہوگا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C