17/May/2026

ابوظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، آتشزدگی

👁️ 445 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ابوظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، آتشزدگی

ابوظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، آتشزدگی

ابوظہبی (ڈیلی اردو) متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ایرانی ڈرون حملے سے جوہری بجلی گھر کے باہر آگ لگ گئی۔ یہ پہلا موقع ہے، جب ایران جنگ کے دوران چار ری ایکٹروں پر مشتمل براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

 متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔

 

ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد تمام احتیاطی اقدامات کیے گئے اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی فراہم کی جائیں گی۔

 

یو اے ای کے جوہری ریگولیٹر نے تصدیق کی کہ آگ سے پلانٹ کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی اور ’’تمام یونٹ معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔‘‘ 

 

ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ ابھی تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور اماراتی بیان میں بھی کسی فریق کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

 

اتوار کا یہ حملہ پہلا موقع ہے، جب ایران جنگ کے دوران چار ری ایکٹروں پر مشتمل براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ پلانٹ ابوظہبی کے انتہائی مغربی صحراؤں میں سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

 

20 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا براکہ پلانٹ جنوبی کوریا کے تعاون سے بنایا گیا اور 2020ء میں فعال ہوا۔ یہ جزیرہ نما عرب کا پہلا اور واحد جوہری بجلی گھر ہے۔

 

متحدہ عرب امارات نے براکہ پلانٹ کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ ایک سخت جوہری معاہدہ کر رکھا ہے، جسے "123 معاہدہ" کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت امارات نے جوہری پھیلاؤ کے خدشات دور کرنے کے لیے ملک میں یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ پلانٹ کے لیے یورینیم بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔

 

ایران کا جوہری پروگرام، متنازع اور مشکوک

حالیہ برسوں میں جوہری بجلی گھر جنگوں میں ہدف بننے لگے ہیں۔ 2022ء میں یوکرین پر روسی حملے کے دوران پہلی بار یہ صورتحال سامنے آئی۔ 

 

ایران جنگ کے دوران تہران نے بارہا دعویٰ کیا کہ اس کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے ہوئے، تاہم روس کے زیر انتظام ری ایکٹر کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا اور کوئی تابکاری بھی خارج نہیں ہوئی۔

 

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے ممالک میں حملوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ نازک جنگ بندی ٹوٹنے کے خطرے سے پورا مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کھلی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔

 

ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت برقرار ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C