01/June/2026

اختیارات چھین لیے گئے؟ ایرانی صدر کے استعفے نے تہران کی سیاست میں ہلچل مچا دی

👁️ 434 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اختیارات چھین لیے گئے؟ ایرانی صدر کے استعفے نے تہران کی سیاست میں ہلچل مچا دی

اختیارات چھین لیے گئے؟ ایرانی صدر کے استعفے نے تہران کی سیاست میں ہلچل مچا دی

واشنگٹن (ش ح ط) ڈیلی اردو کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے حکومتی ڈھانچے میں اختیارات محدود ہونے اور اہم فیصلوں سے الگ رکھے جانے پر استعفیٰ دینے کی درخواست کر دی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق مسعود پزشکیان نے رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کو آگاہ کیا کہ انہیں اور ان کی حکومت کو اہم فیصلوں کے عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ بطور صدر اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

 

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ہفتے ایرانی صدر اور پاسداران انقلاب کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ 

 

رپورٹس کے مطابق صدر پزشکیان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد حکومتی اداروں، سکیورٹی حلقوں اور عدالتی نظام کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

 

ایرانی عدلیہ نے 26 مئی کو صدر پزشکیان کے قائم کردہ ایک صدارتی ادارے کو معطل کر دیا تھا، جس نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران کئی مہینوں سے جاری انٹرنیٹ بندش ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

تہران سے موصولہ رپورٹس کے مطابق عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن نے بتایا کہ ’’ملکی سائبر اسپیس کو منظم کرنے اور اس کی گورننگ کے لیے قائم کردہ اسپیشل ہیڈکوارٹرز‘‘ نامی ادارے کو انٹرنیٹ بحالی کے فیصلے کے بعد معطل کیا گیا۔ یہ ادارہ صدر پزشکیان نے 12 مئی کو قائم کیا تھا۔

 

رپورٹس کے مطابق مذکورہ ادارے نے 25 مئی کو انٹرنیٹ بحالی کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد صدر پزشکیان نے باضابطہ صدارتی حکم نامہ بھی جاری کیا، تاہم بعد ازاں عدلیہ نے سماعت کے بعد اس فیصلے کو روک دیا۔ میزان آن لائن کے مطابق یہ کارروائی ’’انٹرنیٹ بحالی کے خلاف دائر درخواستوں‘‘ کے بعد کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ درخواستیں کس نے دائر کیں۔

 

ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا حتمی اختیار سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے پاس ہے، جس کے باعث بعض مبصرین اس معاملے کو ایرانی ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

 

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور رابطوں کا سلسلہ جاری بتایا جا رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کئی بار ایرانی قیادت کے اندر تقسیم اور اختلافات کا حوالہ دے چکے ہیں۔

 

تاہم ایرانی حکام کی جانب سے صدر پزشکیان کے مبینہ استعفے کے دعوؤں کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ بعض ایرانی ذرائع پہلے ہی ان رپورٹس کی تردید بھی کر چکے ہیں۔

 

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران میں چھ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 39 سیاسی سزائے موت کے فیصلوں پر بھی عملدرآمد کیا گیا۔

 

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں مظاہرین، صحافی، وکلا، اختلافِ رائے رکھنے والے افراد اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے ارکان شامل ہیں۔ 

 

تنظیم نے ایران میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش، اطلاعات پر پابندیوں اور وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق انٹرنیٹ پابندیوں، سیاسی اختلافات، گرفتاریوں اور داخلی اختیارات کی کشمکش نے ایران کی موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C