اسرائیل غزہ پر حملے روک دے، امریکی صدر ٹرمپ
👁️ 320 بار دیکھا گیا
اسرائیل غزہ پر حملے روک دے، امریکی صدر ٹرمپ
واشنگٹن + یروشلم + غزہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/روئٹرز/ڈی پی اے) حماس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے بمباری روکنے کی اپیل کے باوجود اسرائیل نے غزہ پٹی میں تازہ حملے کیے ہیں۔ ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مزید بمباری نہ کرے تاہم غزہ پر تازہ حملوں کی اطلاعات ہیں۔
غزہ پٹی میں مسلح تنازعے کے خاتمے کی خاطر عالمی کوششیں جاری رہیں تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ تازہ امن منصوبے کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ غزہ میں قیام امن ممکن ہو سکتا ہے۔ حماس یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہو گئی ہے اور اس نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے کچھ حصوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حماس اور اسے وابستہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیموں نے تقریباً دو سال قبل 7 اکتوبر سن 2023 کو اسرائیلی سزرمین پر دہشت گرادنہ حملے کرتے ہوئے تقریبا بارہ سو افراد کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ ڈھائی سو کے قریب افراد کو یرغمالی بنا لیا تھا۔
ان دہشت گردانہ حملوں کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی۔ اسرائیلی نے اس کارروائی کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی بتایا گیا تھا۔
مزید مذاکرات کی ضرروت ہے، حماس
حماس نے کہا ہے کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کرنے اور اقتدار دوسرے فلسطینیوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے لیکن منصوبے کے دیگر پہلو فلسطینیوں کے درمیان مزید مشاورت کے متقاضی ہیں۔
حماس کے سینیئر عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں، جن کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ٹرمپ کے منصوبے کے ''پہلے مرحلے‘‘ پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے، جو بظاہر یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ہے۔
تاہم ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل جنگ ختم کرنے کے لیے ان اصولوں پر قائم ہے، جو وہ پہلے بیان کر چکا ہے اور حماس کے ساتھ ممکنہ اختلافات پر کوئی بات نہیں کی۔
ٹرمپ نے حماس کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ''مجھے یقین ہے کہ وہ پائیدار امن کے لیے تیار ہیں۔‘‘
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ''اسرائیل کو فوراً غزہ پر بمباری بند کرنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو محفوظ اور جلدی باہر نکال سکیں! فی الحال ایسا کرنا بہت خطرناک ہے۔ ہم پہلے ہی تفصیلات پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
حماس کا تفصیلی ردعمل کیا ہے؟
حماس نے کہا کہ منصوبے کے وہ حصے جو غزہ پٹی کے مستقبل اور فلسطینی حقوق سے متعلق ہیں، ان پر فیصلہ ایک ''متفقہ فلسطینی مؤقف‘‘ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جو دیگر دھڑوں سے مشاورت اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو۔
اس بیان میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو کہ اسرائیل کا ایک بنیادی مطالبہ ہے اور ٹرمپ کے منصوبے میں بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ جنگ ختم کرنے اور درجنوں یرغمالیوں کی واپسی کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، بالخصوص اس تنازعے کے دو برس مکمل ہونے سے قبل۔ یاد رہے کہ یہ تنازعہ سات اکتوبر کو شروع ہوا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ حماس کو اتوار کی شام تک معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنا ہو گی، ورنہ ''مزید شدید فوجی کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ''اگر یہ معاہدہ نہیں ہوا تو حماس کے خلاف وہ جہنم ٹوٹے گی جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہو گی۔ مشرق وسطیٰ میں کسی نہ کسی طرح امن قائم ہو گا۔‘‘
امریکی صدر کے اس منصوبے کے مطابق حماس باقی 48 یرغمالیوں، جن میں تقریباً 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے، کو تین دنوں میں(اتوار تک) رہا کرے گی۔ اس کے علاوہ وہ اقتدار چھوڑ دے گی اور ہتھیار ڈال دے گی۔
اس صورت میں اسرائیل غزہ پٹی میں اپنی کارروائی روک دے گا جبکہ زیادہ تر فوجی واپس بلا لے گا۔ ساتھ ہی اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور غزہ پٹی میں امداد کی رسائی اور وہاں تعمیرنو کے عمل کی اجازت دے گا۔ اس ڈیل کے تحت غزہ کی آبادی کو دیگر ممالک میں منتقل کرنے کے منصوبے منسوخ کر دیے جائیں گے۔
اسرائیل صدر ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کیلئے تیار
اسرائیلی فوج نے آج چار اکتوبر بروز ہفتہ کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کی تیاریوں کو آگے بڑھائے گی، جس کا مقصد غزہ کی جنگ ختم کرنا اور باقی تمام یرغمالیوں کی واپسی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے کہا کہ وہ معاہدے کے کچھ حصوں کو قبول کرتی ہے جبکہ دیگر پر ابھی مذاکرات کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیلی قیادت نے اسے ہدایت دی ہے کہ وہ منصوبے کے نفاذ کے لیے ’’تیاری کو آگے بڑھائے۔‘‘ ایک اسرائیلی عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل نے غزہ میں صرف دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے اور فعال حملے نہیں کیے جائیں گے فوج واپس بلوانے کی بات نہیں کی گئی ہے۔
جمعے کے روز نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل جنگ ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاہم اس نے حماس کے ساتھ ممکنہ اختلافات پر بات نہیں کی۔
ایک سرکاری عہدیدار اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ نیتن یاہو نے امریکی دباؤ کے تحت ہفتے کی رات سبت کے موقع پر ایک غیر معمولی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے ٹرمپ کے منصوبے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔
اس عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایک مذاکراتی ٹیم بھی روانگی کی تیاری کر رہی ہے، تاہم کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی۔
فلسطینی اسلامی جہاد نے ٹرمپ منصوبے پر حماس کے ردعمل کی منظوری دیدی
حماس کی اتحادی عسکری تنظیم فلسطینی اسلامی جہاد نے حماس کی تائید کی کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے کچھ پہلوؤں سے متفق ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ اس عسکری گروپ نے ایک بیان میں کہا، ’’حماس کا ٹرمپ کے منصوبے پر ردعمل فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کی پوزیشن کی نمائندگی کرتا ہے اور اسلامی جہاد نے اس فیصلے تک پہنچنے والی مشاورت میں ذمہ داری کے ساتھ حصہ لیا۔‘‘
فلسطینی اسلامی جہاد غزہ میں دوسری سب سے طاقتور عسکری تنظیم ہے اور اس کے پاس بھی کچھ یرغمالی ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس اور دیگر عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران اغوا کیے گئے تھے۔ اس تنظیم کو اپنے اتحادی حماس سے زیادہ سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔
غزہ پٹی پر قابض حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے چند اہم نکات، بشمول جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا اور یرغمالیوں کی واپسی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی جیسے نکات پر جمعہ کے روز اتفاق کر لیا تھا۔
یورپی یونین، اسرائیل، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک نے فلسطینی اسلامی جہاد اور حماس دونوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں، 150 شہری ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور 85 ہزار بے گھر ہونے کا دعویٰ
14/September/2026 👁️ 25 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کا مأرب میں بے گھر افراد کے اجتماع کے قریب بیلسٹک میزائل حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا
14/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ اور لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی امور پر گفتگو
14/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
محمد بن سلمان کی امریکی سینٹکام کمانڈر سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
14/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
ایران: سراوان میں فورسز کی کاروائی ، بی ایل اے کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد اور 3 ایرانی اہلکار ہلاک
14/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کا سعودی عرب میں فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
14/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26290 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15539 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11825 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9130 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7415 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5158 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C