04/September/2025

اسرائیل نے حماس کی نئی پیشکش مسترد کر دی

👁️ 390 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل نے حماس کی نئی پیشکش مسترد کر دی

اسرائیل نے حماس کی نئی پیشکش مسترد کر دی

یروشلم + لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی/اے ایف پی) اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جامع معاہدے کی حماس کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

 

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس تجویز کو الفاظ کے ہیر پھیر سے تعبیر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

 

حماس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گروپ سے ’فوری طور پر 20 یرغمالیوں کو رہا کرنے‘ کا مطالبہ کیا گیا کہ اس کے بدل فوراً فلسطینی قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔

حماس کے مطابق کل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پراس یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

 

ادھر اسرائیل نے غزہ شہر پر اپنے فوجی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

 

غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہوئے۔

 

غزہ شہر کے رہائشیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہاں جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

 

حالیہ دنوں میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہزاروں اسرائیلی فوج کے ریزرو فورس کو بلا لیا ہے کیونکہ ملک نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے۔

 

اسرائیلی زمینی افواج غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں داخل ہو گئی ہیں۔ غزہ شہر شدید فضائی اور توپ خانے کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

 

اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مکینوں سے فوری طور پر نکل کر جنوب کی طرف جانے کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں تقریباً 20,000 افراد شہر چھوڑ چکے ہیں لیکن تقریباً دس لاکھ افراد اب بھی وہاں موجود ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر مکمل حملے شروع کرنے کے نتائج شہر کے مکینوں اور پوری غزہ پٹی کے لیے ’تصور سے کہیں زیادہ تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

 

گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’آپریشن گیڈونز چیریٹس 2‘ کے دوران تقریباً 60,000 ریزرو فوجی بلائے گی، زمینی کارروائی کا ایک نیا مرحلہ جو مئی میں شروع ہوا تھا اور اب تک غزہ کی پٹی کے کم از کم 75 فیصد پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔

 

20,000 ریزر فورس جو پہلے متحرک تھی ان کی سروس کی مدت بھی بڑھا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ حماس نے 48 اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے 20 کے بارے میں کہا وں گے: متحدہ عرب امارات

 

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی صورت میں سنگین نتائج سے متعلق خبردار کیا ہے۔

 

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق ایک ’ریڈ لائن‘ پار کرے گا اور ابراہیمی معاہدے کو نقصان پہنچائے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔

 

ایک سینیئر اماراتی اہلکار لانا نسیبہ نے کہا کہ ایسا اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ’موت کا پروانہ‘ ثابت ہو گا۔

 

فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے موقف کا خیر مقدم کرتی ہے۔

 

اسرائیلی حکومت نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

 

سنہ 1967 کی جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے، اسرائیل نے اس علاقے میں تقریباً 160 بستیاں تعمیر کیں، اور وہاں 700,000 یہودیوں کو آباد کیا۔

 

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 3.3 ملین فلسطینی بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں رہتے ہیں۔ مغربی کنارہ، غزہ کے ساتھ، فلسطینی علاقے ہیں، جو انھیں مستقبل کی ریاست کی امید دلاتے ہیں۔

 

مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔

 

یاد رہے کہ ابراہمی معاہدہ 2020 میں امریکی ثالثی سے طے پایا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

 

ابراہمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اہم شرائط کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سابقہ ​​حکومت نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں بشمول بستیوں اور وادی اردن کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو روک دیا تھا۔

نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے منصوبوں کو ’معطل‘ کرنے پر اتفاق کیا ہے، مگر وہ ابھی زیر غور ضرور ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C