22/August/2025

اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں، لاکھوں فلسطینی نقل مکانی پر مجبور

👁️ 305 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں، لاکھوں فلسطینی نقل مکانی پر مجبور

اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں، لاکھوں فلسطینی نقل مکانی پر مجبور

غزہ/تل ابیب (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں ) اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سٹی پر قبضے اور کنٹرول کے اپنے منصوبے کے تحت کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ فوج کے مطابق اس نے غزہ سٹی کے مضافات پر قبضہ کر لیا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔

 

فوجی ترجمان نے بتایا کہ زیتون اور جبالیہ کے علاقوں میں قبضے کی تیاری کے لیے فوج پہلے ہی تعینات کی جا چکی تھی۔ دوسری جانب غزہ کے حکام نے کہا کہ زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد فلسطینی شہری نقل مکانی شروع کر چکے ہیں۔

 

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو اس فوجی آپریشن کی منظوری دی تھی، جبکہ اسے اس ہفتے کے آخر میں سکیورٹی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

 

حماس نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل معصوم شہریوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اور جنگ بندی میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں واقع غزہ سٹی، جنگ سے پہلے سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ تھا۔

 

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے ’فاکس نیوز‘ کو بتایا کہ اسرائیل غزہ کی پوری پٹی پر قبضہ کرنے کے بعد اسے عرب طاقتوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور دنیا کے کئی رہنماؤں نے اس اقدام کی مذمت کی ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

 

نتن یاہو کے بیان کے مطابق اسرائیل کی ڈیفینس فورسز غزہ سٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے منصوبے کے پانچ اصول ہیں:

 

1. حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا

 

2. تمام یرغمالیوں کی واپسی چاہے زندہ ہوں یا مردہ

 

3. غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانا

 

4. اسرائیلی فورسز کا غزہ کا سکیورٹی کنٹرول سنبھالنا

 

5. ایک متبادل سول انتظامیہ قائم کرنا جو حماس اور فلسطینی اتھارٹی سے آزاد ہو

 

اسرائیلی فوج نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جنگی زون سے باہر رہنے والے شہریوں کو انسانی امداد فراہم کرے گی، تاہم یہ واضح نہیں کہ امداد کون فراہم کرے گا۔

 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان غزہ پر مکمل کنٹرول کے معاملے پر اختلافات بھی ہوئے۔ موجودہ صورتحال میں اسرائیل غزہ کے 75 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 86 فیصد علاقہ یا تو ملٹری زون ہے یا وہاں سے لوگوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

 

بین الاقوامی ردعمل میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسرائیل کے اقدام کو ’غلط‘ قرار دیا، جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز نے کہا کہ جرمنی اب اسرائیل کو ایسے ہتھیار فراہم نہیں کرے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس اقدام کو ’مجرمانہ‘ قرار دیا، جبکہ ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے زبردستی بے گھر کرنا چاہتا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹکر نے کہا کہ غزہ میں جنگ فوری طور پر ختم ہونی چاہیے، کیونکہ یہ بڑے پیمانے پر تباہی اور مظالم کا باعث بن رہی ہے۔

 

تاہم امریکی ردعمل کم تنقیدی رہا، اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکہ کے لیے یہ منصوبہ تشویش کا باعث نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C