17/October/2025

افغان سرزمین سے حملے بھارت کے اشارے پر ہوئے، پاکستانی وزیر اعظم

👁️ 289 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان سرزمین سے حملے بھارت کے اشارے پر ہوئے، پاکستانی وزیر اعظم

افغان سرزمین سے حملے بھارت کے اشارے پر ہوئے، پاکستانی وزیر اعظم

اسلام آباد  (ڈیلی اردو ) بدھ کو کابینہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حالیہ حملے بھارت کی شہہ پر کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’سب جانتے ہیں کہ جب یہ کارروائی کی گئی تو افغان طالبان کے وزیر خارجہ بھارت کا دورہ کر رہے تھے۔‘‘

 

شہباز شریف نے افغان سرزمین سے پاکستانی حدود پر حملوں کو ’’بھارت کے اشارے پر کی گئی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا جواب دیا جائے گا۔

 

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغان طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 23 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ ان کے بقول جواباً پاکستانی افواج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

 

شہباز شریف نے کہا، ’’پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن افغانستان نے بارہا ہماری امن کوششوں کو نظر انداز کیا۔ مستقل جنگ بندی کا فیصلہ افغان طالبان کو کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہر ممکن کوشش کر لی ہے اور طویل المدتی امن کے لیے اب افغان طالبان کو آگے بڑھنا ہو گا، ’’اب گیند افغان طالبان کی کورٹ میں ہے۔‘‘

 

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان نے اسلام آباد حکومت کے ’’جائز‘‘ مطالبات نہ مانے تو پاکستانی فوج بھرپور کارروائی کر سکتی ہے۔ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد 48 گھنٹے کی جنگ بندی جاری ہے، لیکن دونوں جانب سے الزامات اور دھمکیوں کا سلسلہ تھما نہیں۔ 

 

وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں کہا، ’’گیند اب افغان طالبان کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ 48 گھنٹوں میں ہمارے جائز مطالبات مانتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔‘‘

 

شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین سے فعال تحریک طالبان پاکستان کے خاتمے اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

 

دوسری جانب، افغان طالبان حکومت نے الزام لگایا ہے کہ جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل پاکستان نے کابل پر دو ڈرون حملے کیے، جن میں ایک رہائشی گھر اور بازار نشانہ بنے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

 

پاکستانی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو افغانستان سے داخل ہونے والے درجنوں عسکریت پسندوں کو خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں ہلاک کیا گیا۔

 

یہ بحران سن 2021 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے سنگین تصادم بن چکا ہے، اور خطے میں داعش و القاعدہ جیسے گروہوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں مزید عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C