10/November/2025

افغان طالبان کی حکومت میں ’پاکستان مخالف لابی متحرک‘ دفتر خارجہ کا سخت بیان

👁️ 318 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان طالبان کی حکومت میں ’پاکستان مخالف لابی متحرک‘ دفتر خارجہ کا سخت بیان

افغان طالبان کی حکومت میں ’پاکستان مخالف لابی متحرک‘ دفتر خارجہ کا سخت بیان

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو ) پاکستان کے دفتر خارجہ نے اتوار کو جاری ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان عبوری حکومت کے اندر ایک پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے جو سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے اور اس معاملے میں طالبان حکومت کی طرف سے کیے گئے وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ 

 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کسی صورت مسلح شدت پسندوں کو سرحد پار زبردستی دھکیلنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس معاملے کو ’’صلاحیت سے زیادہ نیت‘‘ سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے متعدد مواقع پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، مگر طالبان حکومت نے بارہا انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ عناصر اُن کے قابو میں نہیں؛ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ عذر قابل قبول نہیں اور طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ گزین ظاہر کرنے کی کوشش ایک فریب ہے۔ 

 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ہر اس پاکستانی کو واپس لینے کے لیے تیار ہے جو افغانستان میں مقیم ہے بشرطیکہ انہیں طورخم یا چمن پر باضابطہ طریقے سے حوالے کیا جائے، نہ کہ مسلح عناصر کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرکے سرحد کے اُس پار دھکیلا جائے۔ 

 

دفتر خارجہ نے تسلیم کیا کہ اگست 2021 کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس عرصے میں پاکستان نے فوجی اور شہری سطح پر جانی نقصان برداشت کیا، تاہم پاکستان نے باضابطہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کا راستہ اختیار رکھا۔ 

 

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں 7 نومبر 2025 کو استنبول میں مکمل ہوا؛ پہلے دور میں دوحہ میں تعاون کے بنیادی اصول طے پائے اور پاکستان نے عارضی جنگ بندی قبول کی، دوسرے دور میں استنبول میں نفاذ کے طریقہ کار پر بات ہوئی مگر افغان وفد عملی اقدامات سے پیچھے ہٹتا رہا، اور تیسرے دور میں بھی افغان فریق نے اصل مسئلے دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جس سے پاکستان کو یہ تاثر ملا کہ طالبان حکومت عارضی جنگ بندی کو طول دینے کے ذریعے وقت حاصل کرنے کے خواہاں تھی۔ 

 

دفتر خارجہ نے ذکر کیا کہ طالبان کے بعض عناصر پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے مگر ایک بااثر گروہ بیرونی مالی مدد کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہا ہے اور طالبان حکومت بعض اوقات غیر متعلقہ اور فرضی معاملات کو سامنے لا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتی رہی ہے۔ 

 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے گزشتہ چار برسوں میں دوطرفہ تجارت میں سہولتیں فراہم کیں، انسانی بنیادوں پر امداد دی، تعلیمی و طبی ویزے جاری کیے اور بین الاقوامی فورمز پر مثبت رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود طالبان حکومت کے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں۔ 

 

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن قرار دیے جا چکے ہیں اور جو کوئی بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی اعانت کرے وہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں سمجھا جائے گا؛ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور اس عزم کا اظہار اکتوبر 2025 میں کئے گئے کارروائیوں سے بھی ملا، جس میں پاکستانی اداروں نے سرحدی خطرات اور دہشت گردانہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر ردعمل دیا۔ 

 

ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان امن اور سفارت کاری کا حامی ہے اور طاقت کا استعمال آخری چارہ ہے، تاہم بنیادی تحفظاتی مسئلہ یعنی افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر دوطرفہ تعلقات اور اعتماد کی بنیاد قائم نہیں ہوسکتی؛ پاکستان مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کا پابند ہے مگر اس سے پہلے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا اولین ترجیح ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C