26/November/2025

افغان طالبان کے فضائی حملوں کے الزامات بے بنیاد، شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، پاکستان آرمی

👁️ 253 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان طالبان کے فضائی حملوں کے الزامات بے بنیاد، شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، پاکستان آرمی

افغان طالبان کے فضائی حملوں کے الزامات بے بنیاد، شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، پاکستان آرمی

اسلام آباد/پشاور (ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان میں شہریوں کے خلاف کسی بھی حملے کی تردید کرتے ہوئے افغان حکام کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا اور کبھی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔

 

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔

 

افغانستان کی جانب سے پاکستان پر فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزام کے جواب میں منگل کو سینیئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی کوئی بھی فوجی کارروائی علی الاعلان ہوتی ہے۔‘

 

اس سے قبل افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

 

انھوں نے پاکستان پر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا، خوست اور کنڑ میں فضائی حملوں کا الزام لگایا اور کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور رسوائی کے سوا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔

 

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا، خوست اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملے نہ صرف افغانستان کی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں اور قوانین سے بھی کھلا انحراف ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی اس نوعیت کی جارحیت سے انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کی جانب سے اپنی حدود کی خلاف ورزی اور مجرمانہ اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اپنے فضائی و زمینی حدود اور اپنے قوم کے دفاع کو اپنا شرعی حق سمجھتا ہے اور مناسب وقت پر اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

 

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان عبوری حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان مختلف دہشت گردوں کے گروہوں میں فرق نہیں کرتا۔

 

پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شاہزیب نے سرکاری ٹی وی پر فوجی ترجمان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک تفصیلی ملاقات تھی جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔

 

عادل شاہزیب کے مطابق فوجی ترجمان نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کی بھی شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کو ہر طرح کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان طالبان کی حمایت سے ہی پاکستان میں 50 اور 60 جبکہ بعض دفعہ 100، 100 ٹی ٹی پی کے شدت پسند پاکستان میں اپنی ’دہشتگردانہ کارروائیوں‘ کے لیے داخل ہوتے ہیں۔

 

یہ بیان پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہوئے خودکش حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں تین افسر ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایف سی کے مطابق حملہ آور افغان شہری تھے۔ 

 

صدر پاکستان آصف زرداری نے حملے کا الزام "غیر ملکی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج" پر عائد کیا، جو کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

 

اسلام آباد حملہ

 

اسی ماہ اسلام آباد کی ایک عدالت کے باہر ہوئے خودکش دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے نے قبول کی۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کی نگرانی میں ہوئی۔

 

عطا اللہ تارڑ

 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اسلام آباد حملے کی منصوبہ بندی نور ولی محسود نے کی، اور چار سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے: ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد زالی اور شاہ منیر۔ ان کا کہنا تھا کہ ساجد اللہ نے خودکش جیکٹ کا بندوبست کیا اور حملہ آور عثمان شنواری کو دھماکے کے مقام تک پہنچایا۔

 

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ساجد اللہ 2015 میں کالعدم ٹی ٹی پی میں شامل ہوا، افغانستان کے مختلف تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کی اور 2024 میں جلال آباد کے دورے کے دوران داد اللہ کے ذریعے خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی۔ اگست 2025 میں ساجد اللہ اور زالی نے افغانستان میں مزید رابطہ کاری کی اور خودکش حملے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔

 

افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں شہری ہلاکتیں

 

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ شب پاکستان نے افغانستان کے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، زیادہ تر خواتین اور بچے۔ تنظیم نے واقعے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

 

اقوام متحدہ کی تجویز: مذاکرات اور شہری تحفظ

 

افغانستان میں انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے اسپیشل ریپورٹر رچرڈ بینٹ نے زور دیا کہ تمام فریقین کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ ان کے مطابق خواتین کی مؤثر شمولیت تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C