افغانستان میں جرمن دستوں کے درجنوں سابق مقامی معاونین ہلاک
👁️ 30 بار دیکھا گیا
افغانستان میں جرمن دستوں کے درجنوں سابق مقامی معاونین ہلاک
برلن + کابل (ڈیلی اردو/رائٹرز، ڈی پی اے) افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہاں ماضی میں جرمن فوجی دستوں کے لیے کام کرنے والے درجنوں مقامی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ برلن حکومت ان کی جان کو لاحق خطرات کے سبب انہیں افغانستان سے نکالنا چاہتی تھی۔
جرمن میڈیا کے مطابق افغانستان میں اگست 2021ء میں عسکریت پسند طالبان کے اقتدار میں آ جانے کے بعد سے اپنی جرمنی منتقلی کے منتظر افراد میں سے بتیس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں نیٹو مشن کے دوران جرمن مسلح افواج کی مقامی کارکنوں کے طور پر مدد کی تھی یا پھر اپنے ہی ملک میں ان کو کسی اور وجہ سے جان کے خطرات لاحق تھے۔
وفاقی جرمن حکومت کی جانب سے یہ معلومات جرمنی کی لیفٹ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کلارا بُنگر کے ایک سوال کے جواب میں عام کی گئیں۔
اموات کیسے ہوئیں؟
سوال کے جواب میں فراہم کی گئی فہرست کے مطابق مذکورہ افغان شہریوں میں سے پندرہ کی موت قدرتی یا حادثات کے نتیجے میں ہوئی، نو افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے، جن میں ایک ایسا سابق مقامی معاون کارکن بھی شامل تھا جو دہشت گرد گروہ ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی جانب سے ایک مسجد پر کیے گئے ایک حملے میں مارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جرمن دستوں کے ایک اور سابق مقامی مددگار نے خودکشی بھی کر لی۔
جرمن حکومت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ سات افراد کی اموات کی وجہ ابھی تک واضح نہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی بھی ہلاکت کا جرمن افواج کی مدد کرنے جیسی سرگرمیوں سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے۔
وفاقی جرمن فوج افغانستان میں امریکی قیادت میں بیس سالہ فوجی مشن کا حصہ رہی تھی، جو گزشتہ برس جولائی میں ایک غیرمنظم طریقے سے ختم کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ پندرہ مہینوں کے دوران 36 ہزار سے زیادہ سابق مقامی امدادی عملے اور دیگر خطرات سے دوچار افغانوں کو، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں، ان کے خاندانوں کے منظور شدہ افراد کے ساتھ ملک سے نکالنے کا انتظام کیا ہے۔ برلن حکومت کے مطابق ایسے دو تہائی سے زیادہ افغان شہری پاکستان کے راستے جرمنی پہنچائے گئے۔
‘جرمن حکومت کی ناکامی‘
دوسری جانب جرمنی کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت دی لنکے کی رکن پارلیمان کلارا بُنگر نے جرمن جریدے ڈئر اشپیگل سے گفتگو میں اس صورتحال کو ‘ایک تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت افغانستان سے خطرات سے دوچار افراد کو بروقت جرمنی لانے میں ‘مجرمانہ حد تک‘ ناکام رہی ہے۔
انہوں نے جرمنی کی نئی مخلوط حکومت پر کم از کم ایسے مقامی افراد کو محفوظ طریقے سے نہ لانے پر تنقید کی جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ جرمنی آ سکتے ہیں۔
سن 2021 میں افغانستان سے نیٹو کی زیر قیادت فوجیوں کے انخلا کو بڑے پیمانے پر افراتفری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ طالبان حکام ماضی میں جرمن دستوں سمیت دیگر غیر ملکی افواج کی مدد کرنے والے مقامی کارکنوں کو ‘غداروں‘ کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے افراد کو زندگی کے مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 151 بار دیکھا گیا
بنوں میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 24 دہشت گرد ہلاک
18/July/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ایران پر امریکی حملوں کا ساتواں روز، 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی
18/July/2026 👁️ 108 بار دیکھا گیا
امریکی حملے بند ہونے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
18/July/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، 8 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
17/July/2026 👁️ 336 بار دیکھا گیا
بنوں میں تین نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
17/July/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8949 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4790 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3564 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 2773 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2556 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2312 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C