26/November/2025

افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں پر شدید مذمت، ’’غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی رسوائی کے سوا کچھ نہیں‘‘طالبان

👁️ 252 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں پر شدید مذمت، ’’غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی رسوائی کے سوا کچھ نہیں‘‘طالبان

افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں پر شدید مذمت، ’’غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی رسوائی کے سوا کچھ نہیں‘‘طالبان

کابل / اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/بی بی سی) افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں کم از کم 10 شہری ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ حملے افغانستان کی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

 

مجاہد کے مطابق، افغانستان اپنے فضائی و زمینی حدود اور شہریوں کے دفاع کو اپنا جائز حق سمجھتا ہے اور ‘‘مناسب وقت پر‘‘ اس کا جواب دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی صورتحال کو پیچیدہ کرتی ہے اور اس سے پاکستان کے فوجی رجیم کی رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

 

افغان میڈیا کے مطابق، پاکستانی حملوں میں خوست میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں نو بچے اور ایک خاتون ہلاک ہوئے، جبکہ پکتیکا میں ایک خالی گاڑی اور نزدیک عبادت گاہ کو نقصان پہنچا۔ کنڑ صوبے میں بھی ایک گھر پر حملہ کیا گیا۔

 

 طالبان کے ترجمان نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس حملے کا مناسب جواب دے گا۔

 

پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی حملے کی تردید کرتے ہوئے افغان حکام کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، ’’پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا۔‘‘

 

انہوں نے کہا، ’’جب بھی ہم کوئی کارروائی کرتے ہیں، اس کا کھلے عام اور باضابطہ طور پر اعلان کیا جاتا ہے۔ پاکستان کبھی بھی شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ افغان عبوری حکومت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔‘‘

 

یہ بمباری اس خودکش حملے کے بعد سامنے آئی جس میں پیر کے روز پشاور میں پاکستان کی نیم فوجی فورس فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر کے تین افسر مارے گئے اور 11 زخمی ہوئے تھے۔ کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم پی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور افغان شہری تھے۔

 

صدر آصف زرداری  نے اس حملے کا الزام "غیر ملکی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج" پر عائد کیا۔ یہ وہ اصطلاح ہے، جو اسلام آباد تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے لیے استعمال کرتا ہے۔

 

اسی ماہ ایک اور خودکش دھماکے میں اسلام آباد کی ایک عدالت کے باہر 12 افراد مارے گئے تھے، جس کی ذمہ داری پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے نے قبول کی تھی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں ہونے والے اس حملے کے پیچھے موجود سیل کو "افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت کی جانب سے ہر قدم پر رہنمائی" مل رہی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C