امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا
👁️ 220 بار دیکھا گیا
امریکہ نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا
واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی) امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے منگل 10 مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پیر کی رات افغانستان کو 'غلط حراست‘ یا wrongful detention کا تعاون کنندہ ملک قرار دے دیا جبکہ اس سے مختلف ایک علیحدہ پیش رفت میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ یا hostage diplomacy پر عمل پیرا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے غلط یا بے جا طور پر حراست میں لینے کے عمل کے حوالے سے افغانستان کی اب جو باقاعدہ درجہ بندی کر دی ہے، اس میں ایران پہلے ہی سے شامل ہے۔
واشنگٹن حکومت کی طرف سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلے ایران اور اب افغانستان کو ایسے ممالک قرار دیا جا چکا ہے، جو اس لیے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتے ہیں کہ بعد میں امریکی پالیسیوں کے لحاظ سے اپنے لیے چھوٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکیں۔
جہاں تک امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے افغانستان سے پہلے ایران کو 'غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دیے جانے کا تعلق ہے، تو واشنگٹن حکومت نے یہ فیصلہ 27 فروری کو کیا تھا، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے جانے والے ان فضائی حملوں سے صرف ایک روز قبل، جو مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین جنگ کی وجہ بنے، جو ابھی تک جاری ہے۔
پا کستان کی کابل پر بمباری: ’ہمیں لگا زلزلہ آگیا ہے‘
نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران اور افغانستان کی ایسے ممالک کے طور پر درجہ بندی کا مقصد تہران اور کابل پر اس مقصد کے تحت دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کا سلسلہ بند کریں یا پھر تادیبی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔
اس حوالے سے پیر ہی کی شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں افغانستان کے بارے میں کہا، ''(کابل میں) طالبان ابھی تک امریکی پالیسیوں میں اپنے لیے رعایتیں حاصل کرنے یا تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرنے جیسے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قابل مذمت ہتھکنڈے لازمی طور پر ختم ہونا چاہییں۔‘‘
ساتھ ہی مارکو روبیو نے کہا، ''امریکی شہریوں کے لیے افغانستان کا سفر محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے کہ طالبان ابھی تک امریکہ اور دیگر ممالک کے شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کابل میں طالبان انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ فوری طور پر ان امریکی شہریوں کو رہا کریں، جن کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔
ان میں ڈینس کوائل نامی وہ امریکی تعلیمی محقق بھی شامل ہیں، جو جنوری 2025ء سے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ ان کے علاوہ افغانی نژاد امریکی بزنس مین محمود حبیبی ایک ایسے کنٹریکٹر ہیں، جو کابل میں ایک ٹیلیکوم کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور 2022ء میں اچانک لاپتا ہو گئے تھے۔ حبیبی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔
نیو یارک سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل پیر کی شام اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ کابل میں طالبان انتظامیہ 'یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری‘ کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ مائیک والٹز نے اس کے لیے انگریزی میں 'ہوسٹیج ڈپلومیسی‘ کے الفاظ استعمال کیے۔
ساتھ ہی اس امریکی سفیر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ہندوکش کی اس ریاست میں طالبان خواتین کے بنیادی حقوق کی بھی عملاﹰ نفی کر رہے ہیں، تو پھر اسی ملک کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے ایک بلین ڈالر مہیا کیے جانے کی کوششوں کا کیا مطلب ہے؟
مائیک والٹز کے الفاظ میں، ''ہم کسی ایسے گروپ کے ساتھ کوئی اعتماد سازی بھلا کیسے کر سکتے ہیں، جو بے گناہ امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتا ہے اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات تک کو مسلسل نظر انداز کرتا آ رہا ہے۔‘‘
افغاستان سے متعلق امریکی حکومت کے اس تازہ ترین اقدام کے ردعمل میں کابل میں طالبان کی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ہندوکش کی اس ریاست کی ’’غلط حراست کے معاون ملک‘‘ کے طور پر درجہ بندی ’’افسوسناک‘‘ ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن نے افغانسدتان میں زیر حراست امریکی شہریوں کی رہائی کا جو مطالبہ کیا ہے، کابل حکومت اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش مند ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
مکہ کی فضائی حدود کی جانب آنے والا حوثی ڈرون سعودی دفاعی نظام نے مار گرایا
16/September/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
بلوچستان سے کردستان تک مسلح مزاحمت، ایرانی پاسداران انقلاب پر دباؤ بڑھنے لگا
15/September/2026 👁️ 215 بار دیکھا گیا
کابل میں سابق افغان حکومت کے جج عبدالمنیر نوری فائرنگ سے ہلاک
15/September/2026 👁️ 220 بار دیکھا گیا
خوست میں بارودی گولہ پھٹنے سے دو بچے ہلاک، ایک بچی شدید زخمی
15/September/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
بنوں میں ڈرون حملہ، دو شہری ہلاک؛ پولیس آپریشن میں ایک دہشتگرد مارا گیا
15/September/2026 👁️ 209 بار دیکھا گیا
امریکا ایران کشیدگی میں مذاکرات کی راہ ہموار، ہرمز اور جوہری پروگرام اہم نکات بن گئے
15/September/2026 👁️ 238 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26296 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15545 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11830 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9140 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7420 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5174 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C