01/August/2025

امریکہ کا فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او پر پابندی کا اعلان

👁️ 340 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کا فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او پر پابندی کا اعلان

امریکہ کا فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او پر پابندی کا اعلان

واشنگٹن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی (PA) اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ یہ اقدام ان افراد کو امریکہ کے سفر سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

 

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ اقدام امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات کے تحت کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے، جو اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں۔‘‘

 

یہ پابندیاں ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب کئی ممالک خطے میں جنگ بندی اور تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت میں سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی بیان میں ان اہلکاروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ان عناصر کے خلاف ہے، جو امن عمل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

یہ اقدام اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی، غزہ میں شدید انسانی بحران اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

 

امریکہ کا فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کو ویزے دینے سے انکار

 

امریکہ نے جمعرات ہی کو یہ اعلان بھی کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کے اہلکاروں کو ویزے جاری نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ان افراد کے خلاف ہے، جو اسرائیل کے ساتھ تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی خود مختار انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) جیسے اداروں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جو امریکہ کے قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی پر ’’دہشت گردی کی حمایت جاری رکھنے‘‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

 

یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ کینیڈا اور فرانس نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر سکتے ہیں۔

 

امریکی ویزے دینے سے انکار کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر فلسطینی رہنماؤں کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

 

پس منظر

 

فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے ان علاقوں کا انتظام چلاتی ہے، جہاں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں، جبکہ ان علاقوں میں نصف ملین سے زائد اسرائیلی آبادکار بھی موجود ہیں، جن کی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب حماس غزہ  پٹی پر حکومت کرتی ہے، جو 7 اکتوبر 2023ء  کو اسرائیل میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ اسی حملے کے نتیجے میں غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملے میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔

 

امریکہ نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی فوجداری عدالت پر بھی اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے، جس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C