امریکی ریاست ٹیکساس میں نیا قانون منظور: پولیس کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاری کی اجازت مل گئی
👁️ 141 بار دیکھا گیا
امریکی ریاست ٹیکساس میں نیا قانون منظور: پولیس کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاری کی اجازت مل گئی
واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی/وی او اے) امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایک نئے قانونی مسودے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت پولیس غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرنے والے تارکینِ وطن کو گرفتار کر سکے گی۔
نئے قانون کے تحت ٹیکساس کے مقامی ججز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غیرقانونی تارکینِ وطن کو بے دخل کرنے کے احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ٹیکساس کے گورنر نے پیر کو نئے مسودۂ قانون پر دستخط کیے ہیں جس کا اطلاق آئندہ برس مارچ سے ہوگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن سے متعلق 2010 میں ریاست ایریزونا میں نافذ کیے جانے والے قانون کے بعد کسی بھی ریاست میں تارکینِ وطن کے حوالے سے پولیس کو دیے جانے والے اختیارات کا یہ ڈرامائی اقدام ہے۔
ایریزونا کے قانون کو ناقدین نے ’مجھے اپنے کاغذات دکھاؤ‘ قانون قرار دیا تھا۔ اُس وقت ایریزونا کے قانون کے بیشتر حصوں کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹیکساس کے گورنر کے دستخط سے منظور ہونے والے قانون کو بھی ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں تارکینِ وطن کا معاملہ مرکزی حکومت کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ لیکن ریاست ٹیکساس میں برسرِ اقتدار ری پبلکن پارٹی جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں مسلسل اپنے حدود سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔
ری پبلکن پارٹی کا مؤقف ہے کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے معاملے پر مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔
ریاست ٹیکساس لگ بھگ 65 ہزار تارکینِ وطن کو امریکہ کے دیگر حصوں میں منتقل کر چکا ہے۔ مزید تارکین کی آمد روکنے کے لیے دریا ریو گرینڈ کے امریکہ کی جانب کنارے پر خاردار تار بھی لگا چکا ہے۔ لوہے کی اس خاردار تار کے سبب میکسیکو سے دریا عبور کر کے آنے والے تارکینِ وطن شدید زخمی بھی ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب پیر کو ہی امریکہ کے کسٹمز اور سرحدی حکام نے ٹیکساس میں میکسیکو کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہوں ایگل پاس اور ایل پاسو کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ اس کا مقصد یہاں تعینات عملے کو تارکینِ وطن کے معاملے میں معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
باربرداری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کرسمس سے قبل دونوں سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے جس نئے قانون پر دستخط کیے ہیں اس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو حراست میں لے سکتے ہیں جس پر ان کو شبہ ہو کہ وہ قانونی دستاویزات کے بغیر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
جب کسی بھی شخص کو حراست میں لے لیا جائے گا اور وہ ٹیکساس کے جج کے سامنے تسلیم کر لے گا کہ وہ امریکہ چھوڑ رہا ہے، تو اسے ملک سے جانے دیا جائے گا یا اس شخص کے خلاف امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
وہ تارکینِ وطن جو احکامات کی پابندی نہیں کریں گے ان کے خلاف مزید سخت الزامات کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
ٹیکساس کے قانون کے تحت غیر قانونی طور پر آنے والے تارکینِ وطن کو، چاہے وہ میکسیکیو کے شہری ہوں یا نہ ہوں، واپس انہیں مقامات پر بھیج دیا جائے گا جہاں سے وہ امریکہ میں داخل ہوئے تھے جن میں میکسیکو کی سرحد بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ آئندہ برس امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں میکسیکو کے ساتھ دیوار کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا تھا۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ کی صدارتی نامزدگی کے حصول کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
قانون کے بعض ماہرین ٹیکساس کے نئے قانون کو ریاستی امور سے تجاوز قرار دے رہے ہیں۔ کیوں کہ تارکینِ وطن کا معاملہ مرکزی حکومت کے دائرۂ کار میں آنے والا معاملہ ہے۔
شمالی امریکہ کے ملک میکسیکو نے بھی امریکی ریاست ٹیکساس میں نافذ کیے گئے نئے قانون پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ میں تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں نے ٹیکساس میں قانون کے نفاذ سے قبل جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسے روکنے کے اقدامات نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔
امریکہ میں تارکینِ وطن کے کیسز سننے والے 34 ججوں نے رواں ماہ ہی ایک خط کے ذریعے ایسے اقدامات کی مذمت کی تھی اور ان اقدامات کو غیر قانونی بھی قرار دیا تھا۔ ان ججوں نے دونوں جماعتوں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ادوار میں عدالتی فرائض انجام دیے تھے۔
امریکہ اور میکسیکو میں ہونے والے سمجھوتے اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت میکسیکو اپنے شہریوں کو بے دخل کیے جانے پر ان کی واپسی قبول کرنے کا پابند ہے۔ البتہ دیگر ممالک سے آنے والے افراد کے حوالے سے اس پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 200 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 226 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 405 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 366 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 191 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 321 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3466 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C