امریکی صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا
👁️ 331 بار دیکھا گیا
امریکی صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا دوبارہ مطالبہ کر دیا
کابل + واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان نے یہ فوجی اڈہ واپس نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا: “اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس کو اسے تعمیر کرنے والوں یعنی امریکہ کو واپس نہیں کیا تو برا ہو گا!!!”
دو روز قبل لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم اپنا فوجی اڈہ واپس چاہتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اس جگہ سے محض ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔”
طالبان کا ردعمل
صدر ٹرمپ کے تازہ مطالبے پر افغان طالبان نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا اور اسے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔
طالبان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا: “امارت اسلامیہ افغانستان باہمی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تمام ریاستوں کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتی ہے، تاہم افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت کسی صورت متاثر نہیں ہو سکتی۔”
بیان میں مزید کہا گیا: “دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی نہیں دے گا، اس لیے امریکہ کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہیے۔”
بگرام ایئر بیس کی اہمیت
تقریباً دو دہائیوں تک بگرام ایئر بیس القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائیوں کا مرکز رہا۔ 77 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس اڈے میں ایک وقت میں 10 ہزار سے زائد فوجی قیام کر سکتے ہیں۔
گزشتہ بیس سال میں تین امریکی صدور جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ اس اڈے کا دورہ کر چکے ہیں۔ موجودہ صدر جو بائیڈن بھی 2011 میں، جب وہ نائب صدر تھے، بگرام پہنچے تھے۔
تاریخی پس منظر
بگرام اڈہ اصل میں سوویت یونین نے 1950 کی دہائی میں صوبہ پروان میں قائم کیا تھا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران یہ سب سے اہم فوجی اڈہ تصور کیا جاتا تھا۔
امریکی افواج کے 2021 میں انخلا کے بعد یہ اڈہ طالبان کے قبضے میں آ گیا، اور اب صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر اس پر امریکی کنٹرول بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے طالبان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4533 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2441 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C