04/February/2025

امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے کا اعلان

👁️ 88 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ کا  غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے کا اعلان

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی/بی بی سی/وی او اے)منگل کے روز اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

نتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جیسے کہ ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا۔

امریکی صدر نے بنا کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ فلسطینی صرف اسی لیے غزہ واپس جانا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ انھوں نے غزہ کو کسی تباہ شدہ علاقے سے تشبیہ دی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے جیسے حالات کی طرف واپس نہیں جا سکتے ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایک خود مختار علاقے کا انتظام سنبھالنے کی بات کر رہے ہیں تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

ان کہنا تھا کہ ’ہم اس علاقے کو اپنی زمین کی طرح اپنائیں گے، اس کو ترقی یافتہ بنائیں گے، ہزاروں نوکریاں پیدا کریں گے، یہ واقعی بہت شاندار ہوگا۔‘

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سب کو ان کا یہ آئیڈیا بہت پسند ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تجویز کے بارے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا آئیڈیا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ غزہ کا ایک مختلف مستقبل دیکھتے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی اور امریکی مغویوں کو واپس لانے میں مدد کی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے جو بائیڈن انتظامیہ نے بند کردی تھی۔

نتن ہاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ جیت کر اس جنگ کو ختم کر دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی بھی جیت ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم امن جیتیں گے اور مشرق وسطیٰ کا ایک نیا مستقبل ترتیب دیں گے۔

ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر پابندیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے بھی پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں تھا اور وہ ایران کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خوبصورت عوام کے ساتھ ’ایک زبردست ڈیل‘ کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے کئی امریکی-ایرانی دوست ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’تباہ کن صورتحال‘ سے بچنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ لیکن وہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

سعودی عرب کا کا فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے سے انکار

سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے درمیان منگل کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان کا فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق موقف اٹل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی ریاست کا جائز حق دیے بغیر دیر پا امن ممکن نہیں۔

عرب ملکوں کا ردعمل

مصر،اردن اور دیگر عرب ممالک نے جنگ کے بعد علاقے کی تعمیر نو کے دوران غزہ کی پٹی سے 23 لاکھ فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی صدر ٹرمپ کی تجاویزکو مسترد کر دیا ہے۔

لیکن، اے پی کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فلسطینیوں کی غزہ سے نقل مکانی کے لیے زور دے رہے ہیں۔

اس ضمن میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نےکہا کہ غزہ کی تعمیر نو کے معاملے کو “حقیت پسندانہ” طریقے سے دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا،”آپ غزہ کی تعمیر کیسے کریں گے؟ ٹائم لائن کیا ہے؟ یہ لوگ ملبے کے ڈھیر میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے اسلحے پر بیٹھے ہیں جو ابھی پھٹا نہیں ہے۔”

غزہ میں تعمیر نو پر وائٹ ہاؤس کی توجہ اس وقت مرکوز ہو رہی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی ایک نازک موڑ پر ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کو اس وقت دو اطراف سے حماس کے خلاف جنگ کے معاملے پر دباو کا سامنا ہے۔

ایک طرف تو ان کے دائیں بازو کے اتحادی غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف عارضی جنگ بندی ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں اور دوسری جانب جنگ سے اکتائے ہوئے اسرائیلی غزہ میں اسیر یرغمالیوں کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں اور 15 ماہ سے جاری تنازعہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ، دریں اثنا، جنگ بندی کے طویل مدتی امکانات کے بارے میں محتاط نظر آتے ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاوس میں اپنے دوسرے دور اقتدار کے آغاز سے ایک روز قبل شروع ہوا تھا۔

کوئی ضمانت نہیں کہ مشرق وسطی میں امن برقرار رہے گا، ٹرمپ

ٹرمپ نے اے پی کے مطابق پیر کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’میرے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے کہ (مشرق وسطی میں) امن برقرار رہے گا۔”

توقع ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بات چیت میں اسرائیل اور سعودی عرب کے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات پر بھی بات ہو گی۔

تاہم، وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں معاہدے کے تحت دوسرے مرحلے میں یرغمالوں کی رہائی کو مکمل کرنا ایجنڈے میں سرفہرست معاملہ ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے ہمسایہ ملک مصر اور اردن منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن مصرکے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے اسے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مشرق وسطی کے دوسرے ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور تنظیموں فلسطینی اتھارٹی اور عرب لیگ نے بھی مصر اور اردن کے ساتھ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کومنتقل کرنے کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ مصر اور اردن کو ب جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں کیونکہ امریکہ قاہرہ اور عمان کو بڑی امداد فراہم کرتا ہے۔

ادھر نیتن یاہو کی حکومت کے سخت گیر دائیں بازو کے ارکان نے بے گھر فلسطینیوں کو غزہ سےمنتقل کرنے کے مطالبے کو قبول کیا ہے۔

غزہ جنگ

غزہ میں جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس دہشت گرد حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ حماس ، جسے امریکہ اور کئی مغربی ملکوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے، لگ بھگ 250 افراد کو یرغمال بنا لیا جنہیں عسکریت پسند اپنے ساتھ غزہ لے گئے۔

ادھر حماس کے زیر اہتمام غزہ کےصحت کے حکام کے مطابق، محصور پٹی میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 47 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 17000 عسکریت پسند شامل ہیں لیکن اس بارے میں حکام نے کوئی ثبوت نہیں دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C