30/December/2025

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ

👁️ 187 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کی ’سخت‘ ردعمل کی وارننگ

تہران (ڈیلی اردو/ بی بی سی) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ کسی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اس کے خلاف تہران کا ردعمل ’سخت‘ ہو گا۔ ایرانی صدر نے یہ بات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس بیان کے ایک روز بعد کہی، جس میں امریکی صدر نے تہران کو ایک نئے ممکنہ حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

 

تہران سے منگل 30 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں تہران ’’فوری اور سخت‘‘ جواب دے گا۔

 

قبل ازیں کل پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام یا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کے لیے دوبارہ کام کرنا شروع کیا، تو اسے ایک بار پھر بڑے فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکہ ایسے حملوں کی حمایت کرے گا۔

 

نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد دیا جانے والا بیان

 

امریکی صدر نے اپنا یہ بیان اس تناظر میں دیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اس سال جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بڑے فضائی حملے کیے تھے، جن کے ساتھ ہی ایران اور اسرائیل کا وہ براہ راست فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا، جو کئی روز تک جاری رہا تھا۔

 

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تاثر بھی دیا کہ ممکن ہے کہ ایران جون میں کیے جانے والے حملوں کے بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہو۔

ایران کی طرف سے تاہم ان الزامات کی بھرپور تردید کی جاتی ہے کہ وہ پہلے یا اب اپنے جوہری ہتھیاروں کے کسی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔

 

روس کی امریکہ کو تنبیہ

 

اسی بارے میں ماسکو سے منگل کے روز ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روس نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے ممکنہ حملے کے حوالے سے احتیاط و اجتناب سے کام لیں۔

 

ماسکو میں کریملن کی طرف سے کہا گیا کہ روس کا موقف یہ ہے کہ اس تنازعے میں تمام فریق تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات کے بجائے ایران کے ساتھ مکالمت کو فروغ دینے کی کوشش کریں، جو ناگزیر ہے۔

 

روس کی ایران سے متعلق سیاسی ترجیحات کے سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ ماسکو نے یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے ساتھ اپنے روابط کو خاص طور پر تقویت دی ہے اور اسی سال تہران اور ماسکو نے آپس میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط بھی کر دیے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C