03/November/2025

امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا جوہری تنصیبات کی فوری تعمیرِ نو کا اعلان

👁️ 197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا جوہری تنصیبات کی فوری تعمیرِ نو کا اعلان

امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا جوہری تنصیبات کی فوری تعمیرِ نو کا اعلان

تہران (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/روئٹرز) ایران کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ تہران حکومت امریکی و اسرائیلی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جوہری تعمیر نو کی حمایت کرتی ہے۔

 

 ایران کے صدر مسعود پزشکیان  نے اشارہ دیا ہے کہایران جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے کہا: ''حکومت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جوہری تعمیر نو کی حمایت کرتی ہے۔‘‘

 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے تمام تعاون ختم کر دیا ہے، جس کے باعث تباہی یا تعمیر نو سے متعلق کوئی بیرونی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

 

صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نہیں چلا رہا بلکہ جوہری توانائی کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مغربی الزامات کو ''جھوٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ایران کی سائنسی ترقی کو روکنے کی کوشش ہے۔

 

ایران کے رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ جوہری ہتھیار بنانا مذہبی طور پر ممنوع ہے، تاہم مغرب میں خدشات موجود ہیں کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو استعمال کر کے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔

 

جنگی کارروائیاں

 

جون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو خود کے لیے ''وجودی خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے 12 روزہ جنگ چھیڑی تھی، جس میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران نے شدید نقصان کی تصدیق کی تھی۔

 

ایرانی صدر کا تازہ ترین بیان

 

صدر پزشکیان نے یہ بیان ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے دورے کے موقع پر دیا، جہاں انہوں نے ملک کی جوہری صنعت کے سینیئر منتظمین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا: ''عمارتوں اور فیکٹریوں کی تباہی  ہمارے لیے مسئلہ نہیں، ہم انہیں زیادہ قوت کے ساتھ۔ دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘‘

جون میں امریکہ نےایران کی جوہری

 

 تنصیبات پر حملے کیے تھے، جن کے بارے میں  واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا حصہ تھیں۔ تاہم، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سول مقاصد کے لیے ہے۔

 

صدر پزیشکیان نے ایران  کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ''یہ سب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہے، بیماریوں کے لیے، عوام کی صحت کے لیے۔‘‘

 

جوہری معاہدہ اور پابندیاں

 

ایران نے 2015ء  میں مغربی ممالک کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ کیا تھا، لیکن 2018 میں امریکہ کے معاہدے سے انخلا کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دی۔ ستمبر 2025 ء میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی درخواست پر اقوام متحدہ کی پابندیاں ''اسنیپ بیک‘‘ میکانزم کے تحت دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C