25/April/2026

امریکی وفد ہفتے کو ایران مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچے گا

👁️ 175 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی وفد ہفتے کو ایران مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچے گا

امریکی وفد ہفتے کو ایران مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچے گا

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے سنیچر کی صبح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد روانہ ہوں گے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کی کوششیں جاری ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد میں شامل دونوں شخصیات سنیچر کی صبح پاکستان روانہ ہوں گی اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گی۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت یہ وفد اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے۔

 

اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این، ایگزیوس اور خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ 

 

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں میں جنگ بندی، علاقائی کشیدگی، قیدیوں کے تبادلے اور آئندہ مذاکراتی فریم ورک سمیت مختلف امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔

 

دو امریکی اہلکاروں نے سی این این کو بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال ان مذاکرات میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے، کیونکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اس مرحلے پر مذاکرات میں شامل نہیں ہو رہے۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی تو نائب صدر جے ڈی وینس فوری طور پر اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ امریکی حکام سٹینڈ بائی پر ہوں گے اور اگر ان کی موجودگی ضروری سمجھی گئی تو وہ بھی پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول نائب صدر اس پورے عمل میں مسلسل شامل ہیں اور واشنگٹن سے لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

 

کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر لچک کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ امریکی نمائندے براہ راست ایرانی مؤقف سننے کے لیے اسلام آباد جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد براہ راست بات چیت چاہتا ہے اور امریکہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے حتمی نتائج کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے۔

 

سٹیو وِٹکوف صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی ہیں۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف عالمی تنازعات میں مرکزی مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں اور اس سے قبل اسرائیل، حماس اور یوکرین جنگ سے متعلق سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کر چکے ہیں۔

 

جیرڈ کشنر صدر ٹرمپ کے داماد ہیں اور ان کے پہلے دورِ صدارت میں سینئر مشیر رہ چکے ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ سرکاری عہدے پر فائز نہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کے معاملات میں ان کا اثر و رسوخ بدستور اہم سمجھا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ برس اسرائیل اور حماس کے درمیان رابطوں میں بھی سرگرم رہے تھے۔

 

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور جاری کشیدگی پر مشاورت شامل ہے۔

 

اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ، ایران مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C