20/April/2025

اہلکاروں کا ٹرین ڈیوٹی سے انکار، جعفر ایکسپریس حملے کے بعد سیکیورٹی بحران شدت اختیار کر گیا

👁️ 59 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اہلکاروں کا  ٹرین ڈیوٹی سے انکار، جعفر ایکسپریس حملے کے بعد سیکیورٹی بحران شدت اختیار کر گیا

اہلکاروں کا ٹرین ڈیوٹی سے انکار، جعفر ایکسپریس حملے کے بعد سیکیورٹی بحران شدت اختیار کر گیا

اسلام آباد + کوئٹہ (ڈیلی اردو رپورٹ) بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹرین سروس کی سیکیورٹی پر مامور 18 لیویز اہلکاروں نے ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا، جس پر ڈائریکٹر جنرل لیویز نے تمام اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، معطل کیے گئے اہلکاروں کو کوئٹہ سے چلنے والی مسافر ٹرینوں، خصوصاً جعفر ایکسپریس، کی حفاظت پر تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم اہلکاروں نے مبینہ طور پر حالیہ حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کیا۔

جعفر ایکسپریس حملہ اور اس کے نتائج

یاد رہے کہ 11 مارچ کو ضلع کچھی کے علاقے بولان میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں کم از کم 26 افراد مارے گئے تھے، جن میں 18 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ حملے کے دوران مسافروں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 33 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ 354 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جھڑپوں میں اس کے 12 جنگجو بھی مارے گئے۔

بعدازاں، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی اور حملہ آوروں کے قبضے سے امریکی ساختہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، جو مبینہ طور پر افغانستان سے لایا گیا تھا۔

لاپتہ مسافروں کا معمہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جعفر ایکسپریس کے لیے 425 مسافروں کو ٹکٹ جاری کیے گئے تھے، جبکہ ہلاک اور بازیاب ہونے والے مسافروں کی مجموعی تعداد 380 بتائی گئی، جس کے بعد 45 مسافروں کی گمشدگی پر سوالات اٹھے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ممکن ہے کچھ مسافر سفر کے لیے آئے ہی نہ ہوں یا وہ مختلف اسٹیشنز پر سوار ہونے والے ہوں۔ کچھ افراد جھڑپ کے دوران بھاگ گئے ہوں یا دوبارہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگ گئے ہوں۔

بی ایل اے کا دعویٰ اور نیا موڑ

تاہم 15 مارچ کو بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے دوران اغوا کیے گئے 214 یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، پاکستانی فوج کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا گیا تھا، لیکن اس پر توجہ نہ دی گئی۔

بی ایل اے کے ترجمان نے کہا، “ریاستی ہٹ دھرمی اور فوجی تکبر نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنظیم نے بین الاقوامی جنگی قوانین کی پاسداری کی، لیکن پاکستان کی جانب سے سنجیدہ ردعمل نہ ملنے کے باعث یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

ابھی تک اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ سرکاری سطح پر بھی اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیکیورٹی بحران

حملے کے بعد بلوچستان میں ٹرین سروس کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، تاہم 18 لیویز اہلکاروں کی معطلی سے سیکیورٹی کے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ اس صورتِ حال نے صوبائی حکومت اور لیویز فورس کے درمیان رابطہ کاری کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C