ایران میں مہر کے قانون میں متنازع ترامیم منظور، خواتین کے حقوق مزید محدود
👁️ 296 بار دیکھا گیا
ایران میں مہر کے قانون میں متنازع ترامیم منظور، خواتین کے حقوق مزید محدود
تہران (ڈیلی اردو/آئی ایس این اے/ڈی پی اے) ایرانی پارلیمان نے مہر کے قانون میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جنہیں اراکینِ پارلیمان نے ''انتہائی ضروری‘‘ قرار دیا۔ دیگر قانون سازی اقدامات کے بالکل برعکس ان ترامیم کی انتہائی تیزی سے منظوری دے دی گئی۔ گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کے بہتر تحفظ سے متعلق مسودۂ قانون پر گزشتہ 14 برس سے بحث جاری ہے۔
ایران میں عموماً دلہا یا اس کا خاندان شادی کے وقت دلہن کو مہر ادا کرتا ہے۔ یہ اکثر سونے کے سکّوں کی صورت میں ہوتا ہے، تاہم اس میں نقد رقم، جائیداد یا دیگر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ مہر کا تعین شادی سے پہلے کیا جاتا ہے۔ اگر اس کو نکاح کے وقت ادا نہ کیا گیا ہو تو قانوناً اسے قرض تصور کیا جاتا ہے، جس کا مطالبہ بیوی شادی کے دوران کسی بھی وقت یا طلاق کی صورت میں کر سکتی ہے۔
نئی اور نسبتاً نرم پالیسی کے تحت اس حد میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کو قید سے بچنے کے لیے بیوی کو ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ یہ حد 110 سونے کے سکّوں سے کم کر کے صرف 14 سکّے کر دی گئی ہے۔ ہر سکّہ تقریباً 8 گرام سونے کے برابر ہوتا ہے۔
مہر، جس پر شادی سے پہلے باہمی رضامندی سے اتفاق کیا جاتا ہے، ایران میں خواتین کے لیے طلاق کی صورت میں اور وراثتی قوانین کے تحت مالی تحفظ فراہم کرنے کا واحد قانونی ذریعہ ہے۔
’’عورت دشمن نظام‘‘
طلاق کی صورت میں، مغربی ممالک کے برعکس، ایرانی قانون جائیداد کی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیوی کو اس کی منقولہ جائیداد کا صرف آٹھواں حصہ ملتا ہے۔
غیر منقولہ جائیداد، جیسے گھر یا زمین، بچوں کو منتقل ہو جاتی ہے یا اگر بچے نہ ہوں تو مرحوم کے والدین کو دے دی جاتی ہے۔ اگر نہ بچے ہوں اور نہ والدین، تو بیوی کو جائیداد کا صرف ایک چوتھائی حصہ ملتا ہے، جبکہ باقی ریاست کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔
خواتین کے حقوق کی کارکن مہدیہ گل رو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہے ہیں جس کی نظریاتی بنیاد ہی انتہائی عورت دشمن ہے۔‘‘
چالیس سالہ گل رو، جو 2019 سے ملک سے باہر مقیم ہیں، ایران میں خواتین کے حقوق اور جمہوریت کے حق میں مہم چلانے پر کئی بار گرفتار کی جا چکی ہیں۔
گل رو نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی خواتین 2022 میں 22 سالہ جینا مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے اسلامی نظریہ پر مبنی نظام کے خلاف مزاحمت اور خود اختیاری کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے،’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ کے نعرے کے تحت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر لازمی حجاب پہننے سے انکار کرنے والی خواتین نے ایرانی معاشرے میں عورت کے تصور پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
گل رو کے مطابق، ان کی جدوجہد اور مزاحمت ابھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ یہ نظام ہمیشہ خواتین کے حقوق کو کمزور کرنے کے نئے طریقے تلاش کرتا رہتا ہے، جیسے کہ مہر کے قانون میں اصلاحات کے ذریعے۔ خواتین کے زیادہ حقوق کی خواہش اسلامی جمہوریہ کے سیاسی نظام کی نظریاتی شناخت سے بنیادی طور پر متصادم ہے، جو عورتوں کو مساوی شہری تسلیم ہی نہیں کرتا۔‘‘
ایرانی خواتین گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ سے محروم
گھریلو تشدد سے متعلق مسودۂ قانون اس کی واضح مثال ہے۔ گزشتہ 14 برسوں سے ایرانی قانون ساز ایک ایسے بل پر بحث کر رہے ہیں جس کا مقصد خاندان کے اندر خواتین کو تشدد سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس مسودے میں کئی بار ترامیم کی گئیں اور اسے کمزور کیا گیا، لیکن اس کے باوجود اب تک اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔
ایک دل خراش واقعہ صحافی منصورہ غدیری جاوید کا ہے، جنہیں نومبر 2024 میں ان کے شوہر، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے، نے بے دردی سے قتل کر دیا۔
غدیری جاوید خواتین کے حقوق پر اپنی تحقیقی اور مدلل تحریروں کے باعث جانی جاتی تھیں۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گھریلو تشدد کا شکار تھیں۔
اگر وہ قانونی کارروائی کرتیں تو انہیں اپنے واحد بچے کی تحویل سے ہاتھ دھونا پڑتا، کیونکہ ایران میں عموماً بچوں کی تحویل باپ کو دی جاتی ہے۔
ریاستی معاونت کی کمی کے باعث بہت سی متاثرہ خواتین واقعات کی اطلاع تک نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے گھریلو تشدد کے بارے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل اور سخاروف انعام یافتہ نسرین ستودہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''خواتین پر جبر کے معاملے میں سیاسی نظام کے اندر حیرت انگیز طور پر تیزی سے اتفاقِ رائے پیدا ہو جاتا ہے۔ خواتین کا مسئلہ ان چند نکات میں سے ایک ہے جن پر تمام سیاسی دھڑے متفق ہیں، اور حکومت اسے اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔‘‘
تہران میں مقیم اس وکیل نے، جو طویل عرصے سے عوامی مقامات پر حجاب نہیں پہن رہیں، کہا کہ ایران کا مذہبی حکمران نظام بارہا یہ دکھا چکا ہے کہ وہ بحران کے اوقات میں اپنی طاقت کا اظہار کیسے کرتا ہے۔
’’جب حکومت کو ناقابلِ حل مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ان معاملات کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے جنہیں وہ اپنے قابو میں سمجھتی ہے۔ خواتین پر جبر ریاستی طاقت کے اظہار کا ایک مرکزی ہتھیار بن چکا ہے۔‘‘
پدرشاہی اقدار کے خلاف مزاحمت
مہر کے قانون میں کی گئی تبدیلیوں کو ان قدامت پسند حلقوں کے لیے ایک اشارہ بھی سمجھا جانا چاہیے جو مذہبی اور روایتی وجوہات کی بنا پر تھیوکریٹک نظام کی حمایت کرتے ہیں۔
ایرانی خواتین برسوں سے ان پدرشاہی اقدار کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں، جس کا عکس ملک میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں بھی نظر آتا ہے۔
خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق، اس وقت ایران میں تقریباً 42 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ دارالحکومت تہران میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جرمنی میں طلاق کی شرح تقریباً 35 فیصد ہے۔
طلاق کی صورت میں بہت سی خواتین طے شدہ مہر کو سودے بازی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، مثلاً بچوں کی تحویل حاصل کرنے کے لیے۔
تاہم، ایرانی ذرائع کے مطابق، وہ خواتین جو واقعی اپنا مہر وصول کر پاتی ہیں، ان کی شرح نہایت کم، تقریباً 3 فیصد، ہے۔ اسی طرح مہر کی عدم ادائیگی پر اس وقت قید میں موجود مردوں کی تعداد بھی 3 ہزار سے کم بتائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود ایرانی ارکانِ پارلیمان نے مہر کے قانون میں تبدیلی کو ضروری قرار دیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں فوجداری کارروائی کی حد 110 سونے کے سکّوں سے کم کر کے 14 سکّے کر دیے۔
اگرچہ شوہر اب بھی اپنی بیوی کو مکمل طے شدہ مہر ادا کرنے کا پابند ہے، لیکن اس حد سے زیادہ عدم ادائیگی پر اسے قید کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تاہم عملی طور پر یہ بات غیر واضح ہے کہ یہ واجبات کب اور کس طریقے سے ادا کیے جائیں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام: مختلف مقامات پر حملے ، سکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار زخمی
01/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز : آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا
01/September/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا
31/August/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
مکہ دفاعی معاہدہ: سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام پر اتفاق
31/August/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
عراق: جنگی باقیات پھٹنے سے 2 افراد ہلاک، متعدد زخمی
31/August/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
چاغی: سکیورٹی چوکی پر حملہ ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک
31/August/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26263 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15508 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11791 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9087 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7375 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5054 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C