ایران میں مہر کے قانون میں متنازع ترامیم منظور، خواتین کے حقوق مزید محدود
👁️ 266 بار دیکھا گیا
ایران میں مہر کے قانون میں متنازع ترامیم منظور، خواتین کے حقوق مزید محدود
تہران (ڈیلی اردو/آئی ایس این اے/ڈی پی اے) ایرانی پارلیمان نے مہر کے قانون میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جنہیں اراکینِ پارلیمان نے ''انتہائی ضروری‘‘ قرار دیا۔ دیگر قانون سازی اقدامات کے بالکل برعکس ان ترامیم کی انتہائی تیزی سے منظوری دے دی گئی۔ گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کے بہتر تحفظ سے متعلق مسودۂ قانون پر گزشتہ 14 برس سے بحث جاری ہے۔
ایران میں عموماً دلہا یا اس کا خاندان شادی کے وقت دلہن کو مہر ادا کرتا ہے۔ یہ اکثر سونے کے سکّوں کی صورت میں ہوتا ہے، تاہم اس میں نقد رقم، جائیداد یا دیگر اشیا بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ مہر کا تعین شادی سے پہلے کیا جاتا ہے۔ اگر اس کو نکاح کے وقت ادا نہ کیا گیا ہو تو قانوناً اسے قرض تصور کیا جاتا ہے، جس کا مطالبہ بیوی شادی کے دوران کسی بھی وقت یا طلاق کی صورت میں کر سکتی ہے۔
نئی اور نسبتاً نرم پالیسی کے تحت اس حد میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کو قید سے بچنے کے لیے بیوی کو ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ یہ حد 110 سونے کے سکّوں سے کم کر کے صرف 14 سکّے کر دی گئی ہے۔ ہر سکّہ تقریباً 8 گرام سونے کے برابر ہوتا ہے۔
مہر، جس پر شادی سے پہلے باہمی رضامندی سے اتفاق کیا جاتا ہے، ایران میں خواتین کے لیے طلاق کی صورت میں اور وراثتی قوانین کے تحت مالی تحفظ فراہم کرنے کا واحد قانونی ذریعہ ہے۔
’’عورت دشمن نظام‘‘
طلاق کی صورت میں، مغربی ممالک کے برعکس، ایرانی قانون جائیداد کی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیوی کو اس کی منقولہ جائیداد کا صرف آٹھواں حصہ ملتا ہے۔
غیر منقولہ جائیداد، جیسے گھر یا زمین، بچوں کو منتقل ہو جاتی ہے یا اگر بچے نہ ہوں تو مرحوم کے والدین کو دے دی جاتی ہے۔ اگر نہ بچے ہوں اور نہ والدین، تو بیوی کو جائیداد کا صرف ایک چوتھائی حصہ ملتا ہے، جبکہ باقی ریاست کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔
خواتین کے حقوق کی کارکن مہدیہ گل رو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہے ہیں جس کی نظریاتی بنیاد ہی انتہائی عورت دشمن ہے۔‘‘
چالیس سالہ گل رو، جو 2019 سے ملک سے باہر مقیم ہیں، ایران میں خواتین کے حقوق اور جمہوریت کے حق میں مہم چلانے پر کئی بار گرفتار کی جا چکی ہیں۔
گل رو نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی خواتین 2022 میں 22 سالہ جینا مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد سے اسلامی نظریہ پر مبنی نظام کے خلاف مزاحمت اور خود اختیاری کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے،’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ کے نعرے کے تحت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر لازمی حجاب پہننے سے انکار کرنے والی خواتین نے ایرانی معاشرے میں عورت کے تصور پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
گل رو کے مطابق، ان کی جدوجہد اور مزاحمت ابھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ یہ نظام ہمیشہ خواتین کے حقوق کو کمزور کرنے کے نئے طریقے تلاش کرتا رہتا ہے، جیسے کہ مہر کے قانون میں اصلاحات کے ذریعے۔ خواتین کے زیادہ حقوق کی خواہش اسلامی جمہوریہ کے سیاسی نظام کی نظریاتی شناخت سے بنیادی طور پر متصادم ہے، جو عورتوں کو مساوی شہری تسلیم ہی نہیں کرتا۔‘‘
ایرانی خواتین گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ سے محروم
گھریلو تشدد سے متعلق مسودۂ قانون اس کی واضح مثال ہے۔ گزشتہ 14 برسوں سے ایرانی قانون ساز ایک ایسے بل پر بحث کر رہے ہیں جس کا مقصد خاندان کے اندر خواتین کو تشدد سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس مسودے میں کئی بار ترامیم کی گئیں اور اسے کمزور کیا گیا، لیکن اس کے باوجود اب تک اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔
ایک دل خراش واقعہ صحافی منصورہ غدیری جاوید کا ہے، جنہیں نومبر 2024 میں ان کے شوہر، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے، نے بے دردی سے قتل کر دیا۔
غدیری جاوید خواتین کے حقوق پر اپنی تحقیقی اور مدلل تحریروں کے باعث جانی جاتی تھیں۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے گھریلو تشدد کا شکار تھیں۔
اگر وہ قانونی کارروائی کرتیں تو انہیں اپنے واحد بچے کی تحویل سے ہاتھ دھونا پڑتا، کیونکہ ایران میں عموماً بچوں کی تحویل باپ کو دی جاتی ہے۔
ریاستی معاونت کی کمی کے باعث بہت سی متاثرہ خواتین واقعات کی اطلاع تک نہیں دیتیں، جس کی وجہ سے گھریلو تشدد کے بارے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل اور سخاروف انعام یافتہ نسرین ستودہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''خواتین پر جبر کے معاملے میں سیاسی نظام کے اندر حیرت انگیز طور پر تیزی سے اتفاقِ رائے پیدا ہو جاتا ہے۔ خواتین کا مسئلہ ان چند نکات میں سے ایک ہے جن پر تمام سیاسی دھڑے متفق ہیں، اور حکومت اسے اپنی اتھارٹی مضبوط کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔‘‘
تہران میں مقیم اس وکیل نے، جو طویل عرصے سے عوامی مقامات پر حجاب نہیں پہن رہیں، کہا کہ ایران کا مذہبی حکمران نظام بارہا یہ دکھا چکا ہے کہ وہ بحران کے اوقات میں اپنی طاقت کا اظہار کیسے کرتا ہے۔
’’جب حکومت کو ناقابلِ حل مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ان معاملات کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے جنہیں وہ اپنے قابو میں سمجھتی ہے۔ خواتین پر جبر ریاستی طاقت کے اظہار کا ایک مرکزی ہتھیار بن چکا ہے۔‘‘
پدرشاہی اقدار کے خلاف مزاحمت
مہر کے قانون میں کی گئی تبدیلیوں کو ان قدامت پسند حلقوں کے لیے ایک اشارہ بھی سمجھا جانا چاہیے جو مذہبی اور روایتی وجوہات کی بنا پر تھیوکریٹک نظام کی حمایت کرتے ہیں۔
ایرانی خواتین برسوں سے ان پدرشاہی اقدار کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں، جس کا عکس ملک میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں بھی نظر آتا ہے۔
خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق، اس وقت ایران میں تقریباً 42 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ دارالحکومت تہران میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جرمنی میں طلاق کی شرح تقریباً 35 فیصد ہے۔
طلاق کی صورت میں بہت سی خواتین طے شدہ مہر کو سودے بازی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، مثلاً بچوں کی تحویل حاصل کرنے کے لیے۔
تاہم، ایرانی ذرائع کے مطابق، وہ خواتین جو واقعی اپنا مہر وصول کر پاتی ہیں، ان کی شرح نہایت کم، تقریباً 3 فیصد، ہے۔ اسی طرح مہر کی عدم ادائیگی پر اس وقت قید میں موجود مردوں کی تعداد بھی 3 ہزار سے کم بتائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود ایرانی ارکانِ پارلیمان نے مہر کے قانون میں تبدیلی کو ضروری قرار دیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں فوجداری کارروائی کی حد 110 سونے کے سکّوں سے کم کر کے 14 سکّے کر دیے۔
اگرچہ شوہر اب بھی اپنی بیوی کو مکمل طے شدہ مہر ادا کرنے کا پابند ہے، لیکن اس حد سے زیادہ عدم ادائیگی پر اسے قید کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تاہم عملی طور پر یہ بات غیر واضح ہے کہ یہ واجبات کب اور کس طریقے سے ادا کیے جائیں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
بنوں میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 24 دہشت گرد ہلاک
18/July/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
ایران پر امریکی حملوں کا ساتواں روز، 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی
18/July/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
امریکی حملے بند ہونے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
18/July/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، 8 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
17/July/2026 👁️ 334 بار دیکھا گیا
بنوں میں تین نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
17/July/2026 👁️ 164 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8949 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4790 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3564 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 2771 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2556 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2312 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C