28/October/2026

ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، گولہ بارود کی خریداری پر 29 ارب ڈالر خرچ

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، گولہ بارود کی خریداری پر 29 ارب ڈالر خرچ

ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، گولہ بارود کی خریداری پر 29 ارب ڈالر خرچ


واشنگٹن (ڈیلی اردو) ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، جو جولائی میں سامنے آنے والے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کی جگہ نئے ہتھیاروں اور میزائلوں کی فراہمی پر 29 ارب ڈالر سے زیادہ جبکہ تباہ یا ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان کی تبدیلی پر 6 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کانگریس کو فراہم کردہ تازہ تخمینے میں 16 اکتوبر تک جنگی اخراجات تقریباً 47 ارب ڈالر سے زیادہ بتائے گئے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جولائی میں جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر بتائی تھی۔ تازہ اعداد و شمار ابھی تک محکمۂ دفاع نے باضابطہ طور پر عوام کے لیے جاری نہیں کیے، جبکہ روئٹرز کی جانب سے مؤقف لینے کی درخواست پر پینٹاگون نے فوری جواب نہیں دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، مجموعی تخمینے میں تقریباً 29 ارب ڈالر استعمال شدہ گولہ بارود کی جگہ نئے ذخائر فراہم کرنے، 6.1 ارب ڈالر فوجی سازوسامان کی تبدیلی اور تقریباً 11.9 ارب ڈالر جنگ کے باعث پیدا ہونے والے اضافی عملی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ان اخراجات میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی، پروازیں، رسد، نقل و حمل اور دیگر عسکری سرگرمیاں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، امریکی فضائیہ نے لڑاکا اور بمبار طیاروں کے مختلف اسکواڈرن کی کارروائیوں پر تقریباً 7.6 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ بحریہ کے جنگی جہازوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی پر بھی بھاری اخراجات آئے۔ خطے میں امریکی زمینی فوج کی معاونت اور تعیناتی پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس جنگی مشن میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار شریک ہیں۔

تاہم جنگ کی مکمل مالی لاگت ابھی واضح نہیں، کیونکہ موجودہ تخمینے میں ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے اخراجات پوری طرح شامل نہیں کیے گئے۔ اس لیے مستقبل میں جنگ کی مجموعی لاگت موجودہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ ستمبر کے آغاز تک جنگ کے اخراجات 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ اس وقت بھی گولہ بارود کی کھپت اور تباہ یا نقصان زدہ فوجی سازوسامان کی تبدیلی اخراجات کے بڑے حصے میں شامل تھی۔ امریکی کانگریس میں جنگی بجٹ، ہتھیاروں کے ذخائر اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کی جاتی رہی ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں عارضی کمی آئی، تاہم بعد میں ایران کی تیل کی آمدنی محدود کرنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی اور ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریوں سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق، امریکی حکام نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ تیز ہونے کے امکان پر بھی غور کیا ہے، تاہم کسی نئی کارروائی کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ جنگ کے بڑھتے اخراجات، توانائی کی عالمی قیمتوں پر اثرات اور فوجی وسائل کے استعمال نے امریکی حکومت پر مالی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔pl

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C