28/October/2026

عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی حوثیوں کی وارننگ، میزائل حملے کی اطلاع؛ سعودی فوجی طیارے میں ہتھیار ہونے کا دعویٰ

👁️ 45 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی حوثیوں کی وارننگ، میزائل حملے کی اطلاع؛ سعودی فوجی طیارے میں ہتھیار ہونے کا دعویٰ

عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی حوثیوں کی وارننگ، میزائل حملے کی اطلاع؛ سعودی فوجی طیارے میں ہتھیار ہونے کا دعویٰ

عدن (ڈیلی اردو) یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود افراد کو فوری طور پر انخلا کی ہدایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں سعودی عرب کا ایک فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے، جس کے ذریعے یمنی عوام کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار منتقل کیے گئے ہیں۔ اس انتباہ کے بعد ہوائی اڈے کے احاطے میں میزائل حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈے پر موجود تمام افراد فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں، کیونکہ ان کے بقول سعودی فوجی طیارہ ہتھیار لے کر آیا ہے۔ تاہم، سعودی حکام نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور طیارے میں ہتھیاروں کی موجودگی کی آزادانہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدن کے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ میزائل نے ہوائی اڈے کی حدود میں سعودی فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقے کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز ہوائی اڈے کو دوسری مرتبہ نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی، تاہم حملے سے ہونے والے نقصان اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہوئیں۔

روئٹرز کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے انخلا کی وارننگ جاری ہونے سے پہلے عدن شہر میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔ عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل 7 اور 17 اکتوبر کو بھی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن سے شہری پروازوں اور مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات بڑھے تھے۔

عدن یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا اہم مرکز ہے۔ حوثیوں نے 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد حکومت کا مرکز جنوبی شہر عدن منتقل ہوگیا۔ سعودی عرب یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی باغی ملک کے شمالی حصوں اور دارالحکومت صنعا پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

روئٹرز اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف اور یمن میں حکومتی کنٹرول والے علاقوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ باب المندب آبنائے کے آس پاس جاری فوجی سرگرمیوں نے بھی بحری آمدورفت اور امدادی رسائی کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔

عدن ایئرپورٹ جنوبی یمن کے لیے ایک اہم فضائی راستہ اور انسانی امداد کی ترسیل میں معاون مرکز ہے۔ اس پر حملوں سے شہری پروازوں، مسافروں اور امدادی سرگرمیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ تازہ واقعے میں سعودی فوجی طیارے اور مبینہ ہتھیاروں سے متعلق حوثیوں کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور سعودی حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C