11/June/2026

ایرانی جزیرہ خارک اور تیل و گیس کی اہم تنصیبات پر قبضہ کرینگے، امریکی صدر

👁️ 272 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی جزیرہ خارک اور تیل و گیس کی اہم تنصیبات پر قبضہ کرینگے، امریکی صدر

ایرانی جزیرہ خارک اور تیل و گیس کی اہم تنصیبات پر قبضہ کرینگے، امریکی صدر

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ وہ ایران میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا نہیں چاہتے تاہم ساتھ ہی انہوں نے مزید فضائی حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

 

فاکس نیوز کے پروگرام ’’فاکس اینڈ فرینڈز‘‘ کو انٹرویو میں امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں ایسا نہیں چاہوں گا، کیونکہ اس سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔‘‘

 

تاہم انہوں نے ماضی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپریل کے اوائل میں ایک اسٹیل پلانٹ اور ایک پل کو نشانہ بنایا تھا۔ اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران پر ’’مزید بمباری‘‘ کی جائے گی اور یہ نئی کارروائی ’’زیادہ بڑی اور زیادہ سخت‘‘ ہوگی۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے خلیج فارس میں ایرانی تیل کے اہم برآمدی مرکز خارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

 

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ وہ زمینی قبضے کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکہ میں اس نوعیت کے اقدام کے لیے سیاسی حمایت موجود ہوگی۔

 

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’’آج رات بہت سخت حملے‘‘ کرے گا اور ایران کے اہم تیل و گیس کے مراکز کا کنٹرول حاصل کرے گا۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ تازہ امریکی حملوں کے بعد آٹھ اپریل سے جاری جنگ بندی عملاﹰ بے معنی ہو چکی ہے۔

 

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ ایران کو ’’بہت سختی‘‘ سے نشانہ بنائے گا اور جلد ہی خلیج فارس کے اہم جزیرے خارک اور تیل کی دیگر تنصیبات پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے تیل اور گیس کے نظام پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جیسا کہ وینزویلا میں کیا گیا۔ خارک جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا اہم ترین مرکز ہے اور ملک کی معیشت میں اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خلیج فارس میں ایرانی ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

بعد ازاں فاکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ  نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات میں تاخیر کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

 

امریکی وزارت خزانہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کی طرف سے اتحادی ممالک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں تہران کے مالی اثاثوں سے اس نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ ادھر خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جس سے جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

 

اس سے قبل ایرانی  وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں آٹھ  اپریل سے جاری جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

 

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ گھنٹوں میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے ’’غیر قانونی اور مجرمانہ حملے‘‘ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ ان سے جنگ بندی عملاً بے معنی ہو گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ’’انتہائی سنگین اور مجرمانہ اقدام کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

 

ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور پہلے سے نازک صورتحال کو خطرناک حد تک لے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C