16/December/2025

برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز

👁️ 189 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز

برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز

برلن (ڈیلی اردو، روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی، اے پی)  یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے مابین برلن میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کی جانب ’’حقیقی پیش رفت‘‘ کے دعوے سامنے آ رہے ہے۔

 

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے مابین برلن میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کی جانب ’’حقیقی پیش رفت‘‘ کے دعوے سامنے آ رہے ہے۔ یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ جرمن دارالحکومت میں جاری طویل سفارت کاری تعمیری اور نتیجہ خیز رہی۔

 

عمروف کے مطابق امید ہے کہ دن کے اختتام تک ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو امن کے قریب تک لے جائے، تاہم انہوں نے متنازعہ امور، جیسے علاقائی رعایتوں اور سکیورٹی ضمانتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ صدر زیلنسکی نے مسلسل دوسرے روز بھی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر سے ملاقات کی، جو جرمن چانسلر فریڈرش میرس کی میزبانی میں ہوئی۔

 

اگرچہ امریکی ایلچی نے بھی پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم مذاکرات سے باخبر ایک اہلکار کے مطابق واشنگٹن اب بھی امن بات چیت کے بدلے یوکرین سے مشرقی ڈونباس کے خطے کا کنٹرول چھوڑنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کییف اپنے لیے ایک ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتا ہے۔

 

یوکرین کا موقف ہے کہ روس کے حق میں کسی بھی علاقائی رعایت سے قبل جنگ بندی ضروری ہے۔

 

بعد ازاں پیر کی شام یورپی رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی متوقع ہے، جس میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، پولینڈ اور فن لینڈ کے رہنماؤں کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔ اس اجلاس میں صدر زیلنسکی بھی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کو یوکرین کے ساتھ یورپی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے ’’منصفانہ امن‘‘ یقینی بننا چاہیے تاکہ مستقبل میں روسی جارحیت کا راستہ بند کیا جا سکے۔ یوکرین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نیٹو کی رکنیت کے معاملے پر اصولی طور پر لچک دکھا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مضبوط اور قابل عمل سکیورٹی ضمانتیں دی جائیں۔

 

ادھر ماسکو میں کریملن نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات، خصوصاً علاقائی شرائط اور یوکرین کی نیٹو میں ممکنہ شمولیت سے دستبرداری، پر قائم رہے گا۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو برلن میں زیر بحث امریکی تجاویز کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C