10/July/2026

بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیگا، وزیراعظم شہباز شریف

👁️ 126 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیگا، وزیراعظم شہباز شریف

بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیگا، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد  (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) پاکستانی وزیر اعظم کی صدارت میں کوئٹہ میں سکیورٹی اجلاس کے دوران صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

 

تفصیلات کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم  شہباز شریف نے ملکی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔ بھارت کا نام لیے بغیر انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا شورش کو ہوا دینے میں ''بڑا کردار‘‘ ہے۔

 

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے 42 افراد، جن میں سے زیادہ تر سکیورٹی اہلکار تھے، کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 

حکام کے مطابق پیر سے جاری سکیورٹی آپریشنز میں اب تک کم از کم 54 عسکریت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

 

صوبے میں بڑھتے ہوئے مسلح حملوں کے تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔

 

بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے رواں ہفتے مختلف حملوں میں کم از کم 42 افراد کو ہلاک کیا۔ ان حملوں نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند گروہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔

 

سب سے ہلاکت خیز حملہ پیر کو ضلع زیارت میں ایک پولیس چوکی پر ہوا، جہاں 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ حملے کے دوران اغوا کیے گئے مزید 18 اہلکاروں کو بعد میں اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا۔

 

اس واقعے کے بعد مقتول پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے کوئٹہ میں لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

 

وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''پاکستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘‘

 

بھارت کا نام لیے بغیر انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا شورش کو ہوا دینے میں ''بڑا کردار‘‘ ہے اور وہ عسکریت پسندوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور دیگر سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔

 

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عسکریت پسند افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں، تاہم ریاست ان کے ''مذموم عزائم‘‘ کو ناکام بنا دے گی۔

 

کابل اور نئی دہلی کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دونوں ممالک ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

 

پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مگر آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان طویل عرصے سے علیحدگی پسندانہ شورش اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی خونریز کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔

 

کابل میں افغان طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کی مسلح سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C