05/May/2026

بنوں میں دہشت گردی اور ڈرون حملوں میں اضافہ، سیکیورٹی اور عوام شدید متاثر

👁️ 313 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنوں میں دہشت گردی اور ڈرون حملوں میں اضافہ، سیکیورٹی اور عوام شدید متاثر

بنوں میں دہشت گردی اور ڈرون حملوں میں اضافہ، سیکیورٹی اور عوام شدید متاثر

بنوں (ڈیلی اردو/ٹی این این) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت سینکڑوں عام شہریوں کی جانیں لے لی ہیں، جبکہ خطہ مسلسل بدامنی اور سیکیورٹی چیلنجز کی زد میں رہا ہے۔

 

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے سنگم پر واقع یہ علاقہ جنوبی اضلاع کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، تاہم یہاں امن و امان کی صورتحال طویل عرصے سے غیر مستحکم رہی ہے۔ 

 

ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان کے مطابق ضلع بنوں اور لکی مروت میں مجموعی طور پر 33 ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 29 بنوں اور 4 لکی مروت میں ہوئے۔ ان حملوں میں 12 شہری ہلاک، 49 زخمی جبکہ 21 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

 

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے نصب اینٹی ڈرون سسٹم کی مدد سے 300 سے زائد ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ ان کے مطابق سال 2026 کے دوران دو دہشت گرد ڈرون آپریٹرز کو بھی ہلاک کیا گیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر یاسر آفریدی کے مطابق پولیس کو فراہم کردہ اینٹی ڈرون سسٹم مؤثر ثابت ہو رہا ہے، جس کے باعث حملوں کو روکنے میں نمایاں کامیابی ملی ہے۔

 

پولیس حکام کے مطابق جولائی 2025 میں میریان پولیس اسٹیشن پر پہلا ڈرون حملہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی۔ میریان پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او انور خان خٹک کا کہنا ہے کہ ان کی چھ ماہ کی تعیناتی کے دوران تھانے پر 13 ڈرون حملے کیے گئے۔

 

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدت آئی، جس کے اثرات بنوں اور ملحقہ علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ اس دوران پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔

 

ابتدا میں ڈرون حملے زیادہ تر ریاستی کارروائیوں تک محدود تھے، تاہم اب دہشت گرد گروہ بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں تعلیمی ادارے، سرکاری عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں جبکہ سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی ہے۔

 

مزید برآں، ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس سے نہ صرف معاشی مسائل پیدا ہوئے بلکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مسلسل بدامنی نے عوام میں ذہنی دباؤ اور بے چینی کو بھی بڑھا دیا ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں۔

 

سیکیورٹی خدشات کے باعث مرکزی شاہراہوں کی بار بار بندش نے آمدورفت اور اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کو متاثر کیا، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی۔

 

اگرچہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے صرف فوجی اقدامات کافی نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور مقامی سطح پر اعتماد سازی پر مبنی جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔

 

بنوں ریجن کے عوام نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے علاقے میں مستقل امن قائم کیا جائے تاکہ لوگ خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C