18/September/2025

بھارت میں 60 سال بعد ماؤ نواز باغیوں نے مسلح جدوجہد معطل کرنے کا اعلان

👁️ 539 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت میں 60 سال بعد ماؤ نواز باغیوں نے مسلح جدوجہد معطل کرنے کا اعلان

بھارت میں 60 سال بعد ماؤ نواز باغیوں نے مسلح جدوجہد معطل کرنے کا اعلان

نئی  دہلی (ر س) بھارت کی مختلف یونین ریاستوں میں سرگرم بائیں بازو کے ماؤ نواز باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مسلح جدوجہد معطل کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہیں۔

بھارتی شہر رائے پور سے 17 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) نے اچانک ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی لڑائی وقتی طور پر روک رہے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت نے حالیہ مہینوں میں چھتیس گڑھ سمیت کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر عسکری آپریشن تیز کر دیے تھے۔

 

چھتیس گڑھ کے نائب وزیر اعلیٰ وجے شرما نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت باغیوں کی اس پیشکش کو فی الحال پرکھ رہی ہے اور کوئی حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اس اعلان کی سچائی اور اصل حقیقت کی تصدیق نہ کر لی جائے۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ باغیوں نے مذاکرات کی پیشکش کی ہو۔ رواں برس فروری میں بھی انہوں نے فائر بندی کی تجویز دی تھی مگر حکومت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

 

تاریخی پس منظر

 

بھارت میں ماؤ نواز تحریک 1967 میں مغربی بنگال کے نکسلباڑی گاؤں سے شروع ہوئی تھی، اسی لیے انہیں ’نکسلائٹس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں اس بغاوت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 12 ہزار باغی، سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

تحریک وقت کے ساتھ مضبوط ہوئی اور بھارت کے وسطی و مشرقی علاقوں میں ایک ’سرخ راہداری‘ قائم کر لی گئی جو جھارکھنڈ سے لے کر مہاراشٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔

 

حکومتی رپورٹ اور اعداد و شمار

 

بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق، ماؤ نواز تحریک سے منسلک پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سنہ 2013 میں 1,136 واقعات ہوئے تھے جو 2023 میں گھٹ کر 594 رہ گئے۔ اسی عرصے میں ہلاکتوں میں بھی 65 فیصد کمی آئی، یعنی 397 سے کم ہو کر 138 تک رہ گئیں۔

 

تاہم رپورٹ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ 2023 میں سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جس کی وجہ آپریشنز کی شدت کو قرار دیا گیا ہے۔

چھتیس گڑھ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست رہی جہاں 63 فیصد واقعات اور 66 فیصد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے بعد جھارکھنڈ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ دیگر واقعات مہاراشٹر، اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور بہار میں پیش آئے۔

 

ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے

 

ماہرین کے مطابق چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے زوال نے اس تحریک کے کمزور پڑنے کے اہم اشارے فراہم کیے ہیں۔ ایک دہائی قبل پولیس کو کمزور سمجھا جاتا تھا لیکن نیم فوجی فورسز کے تعاون سے کی جانے والی مربوط کارروائیوں نے صورت حال بدل دی۔

 

کولکتہ میں قائم تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس کے جنرل سیکرٹری رنجیت سور نے کہا کہ شہری حقوق کی تنظیمیں فوری جنگ بندی اور امن مذاکرات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

 

وسائل پر قبضے کی لڑائی

 

ماؤ نواز تحریک کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے معدنیات سے مالا مال ہیں۔ چھتیس گڑھ میں کوئلہ، لوہا، ڈولومائیٹ، باکسائٹ اور ہیرے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک اب تک برقرار رہی کیونکہ باغی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قبائلیوں کے جل، جنگل اور زمین کے حقوق کے لیے لڑتے ہیں۔

تاہم اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم چار بڑی کانوں کو نیلامی کے بعد مختلف کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C