09/September/2025

بھارت کی دفاعی برآمدات ریکارڈ 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

👁️ 390 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت کی دفاعی برآمدات ریکارڈ 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

بھارت کی دفاعی برآمدات ریکارڈ 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

نئی دہلی (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) بھارت اپنی جنگی صلاحیتوں کے حالیہ مظاہروں کے بعد عالمی سطح پر ہتھیاروں کی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان مظاہروں میں ملکی طور پر تیار کردہ میزائل دفاعی نظام ’’غیر مرئی ڈھال‘‘ اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی شامل تھیں۔

 

بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اگست میں کہا تھا کہ یہ آپریشن ’’جنگ کے نئے فن، ایک نئے ویژن، تکنیکی ترقی اور خود انحصاری‘‘ کی علامت ہے۔

 

ریکارڈ برآمدات اور پیداوار

 

وزارتِ دفاع کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بھارت کی دفاعی برآمدات 2.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو پچھلے سال سے 12 فیصد زیادہ اور ایک دہائی قبل کے مقابلے میں 34 گنا زیادہ ہیں۔

ملکی دفاعی پیداوار بھی بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً دوگنی ہوئی ہے۔

 

بھارت اس وقت 100 سے زائد ممالک کو دفاعی سازوسامان فراہم کر رہا ہے، جن میں امریکہ، فرانس اور آرمینیا بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔ ان برآمدات میں میزائل، توپیں، ریڈار نظام، کشتیاں، راکٹ لانچر اور الیکٹرانک پرزہ جات شامل ہیں۔

 

سرحدی جھڑپیں اور مارکیٹنگ

 

مئی میں جوہری طاقت رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان 1999 کے بعد سب سے شدید جھڑپ ہوئی، جس میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس دوران بھارت نے نئے فضائی دفاعی نظام ’’آکاش تیر‘‘ اور براہموس کروز میزائلوں کا عملی استعمال کیا۔

بھارتی فوجی حکام کے مطابق یہ جھڑپیں ’’سنہری بصیرت‘‘ فراہم کرنے والی ثابت ہوئیں اور نئے ہتھیاروں کی کارکردگی کو پرکھنے کا موقع ملا۔

 

براہموس میزائل، جو روس کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے اور فلپائن کو برآمد ہو چکا ہے، جھڑپ کے بعد مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مطابق اب تک 14 سے 15 ممالک نے ان میزائلوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

 

اسٹریٹجک چیلنجز

 

بھارت کا دفاعی بجٹ گزشتہ دہائی میں دوگنا ہو کر 78 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ نئی دہلی روسی ہتھیاروں پر انحصار کم کرتے ہوئے امریکہ، فرانس اور اسرائیل کے ساتھ پیداوار و درآمدی معاہدے کر رہا ہے۔

 

دوسری جانب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کو سزا دیتے ہوئے اس کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کے تحت لڑاکا طیاروں کے انجن اور اسرائیلی طرز کا آئرن ڈوم جیسا دفاعی نظام ’’سدرشن چکر‘‘ تیار کرنے کا منصوبہ جاری ہے۔

 

ڈرون سیکٹر کی توسیع

 

بھارت کا تیزی سے بڑھتا ہوا ڈرون سیکٹر 2030 تک 11 ارب ڈالر کا ہو سکتا ہے۔ کئی ماڈل اسرائیلی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں۔ تاہم، اپریل میں حکومت نے تسلیم کیا کہ چھوٹے مگر اہم ڈرون پرزہ جات کا 39 فیصد چین سے حاصل کیا جا رہا ہے، جو اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C