28/September/2025

تاریخی دفاعی ڈیل، لیکن جوہری ہتھیار عوام کیلئے پوشیدہ، خواجہ آصف کا انکشاف

👁️ 493 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تاریخی دفاعی ڈیل، لیکن جوہری ہتھیار عوام کیلئے پوشیدہ، خواجہ آصف کا انکشاف

تاریخی دفاعی ڈیل، لیکن جوہری ہتھیار عوام کیلئے پوشیدہ، خواجہ آصف کا انکشاف

نیو یارک (ڈیلی اردو/بی بی سی/نیوز ایجنسیاں ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی صحافی مہدی حسن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ قطر پر اسرائیلی حملے کا رد عمل نہیں بلکہ اس پر کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔

 

نیویارک میں موجود پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے امریکی صحافی و مصنف مہدی حسن کے انٹرویو کا تقریبا ساڑھے پانچ منٹ کا ایک مختصر کلپ زیٹیو کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس میں وزیر دفاع سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے دکھائی دیے۔

 

صحافی مہدی حسن نے پوچھا کہ ’پاکستان کو برطانوی راج سے 1947 آزادی کے بعد تسلیم کرنے والا سب سے پہلا ملک سعودی عرب تھا اور اب کچھ روز قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت ان ممالک میں کسی پر بھی اگر حملہ ہوا تو وہ دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ تو کیا آپ کے خیال میں یہ قطر پر ہونے والے حملے کے رد عمل کے طور پر معاہدہ کیا گیا؟

 

خواجہ آصف نے اس تفصیلی سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ معاہدہ قطر میں ہونے والے اسرائیلی حملے کا رد عمل نہیں ہے کیونکہ اس پر کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔تاہم اس حملے نے شاید اس عمل کو کچھ تیز کر دیا ہو لیکن اس پر پہلےسے بات چیت جاری تھی جسے اب باضابطہ معاہدے کی شکل دی گئی پے۔‘

 

یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند روز قبل ’باہمی دفاع کا سٹریٹیجک معاہدہ‘ طے پایا ہے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

 

مہدی حسن نے سوال کیا کہ ’پاکستان مسلم ممللک میں واحد نیوکلیئر پاور ملک ہے اور سعودی عرب نے بھحی اس میں دلچسپی ظاہر کی تھی، کیا اس معاہدے کے تحت سعودی عرب نے پاکستان کو ایٹمی تحفظ فراہم کیا؟’ آپ نےخبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جوہری ہتھیار اس معاہدے کا حصہ نہیں۔ تو کیا سعودی عرب کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی چھتری تلے محفوظ بنایا جائے گا۔

 

اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں ہماری افواج وہاں موجود رہی ہیں۔ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعلق ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم نے اس تعلق کو باضابطہ شکل دے دی ہے جو اس سے قبل کچھ کچھ عارضی بنیاد پر تھے‘۔

 

مہدی حسن نے پوچھا کہ ’یہ باضابطہ شکل جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ہے یا ان کے بغیر؟’وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ’میں تفصیلات میں جانے سے گریز کروں گا لیکن اب ان تمام تعلقات کو رسمی شکل دے گئی ہے جن کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری تھا۔ یہ دفاعی معاملات ہیں اور دفاعی امور کو عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جاتا۔‘

 

مہدی حسن نے پوچھا کہ ’پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور سعودی عرب کے پاس نہیں۔ تو لوگ اس کا جو چاہے مطلب سمجھ لیں؟ خواجہ آصف نے کہا کہ میں اکثر اس کے لیے ہیرو شیما اور نگا ساگی کی مثال سامنے دیکھ کر دعا کرتا ہوں کہ کوئی بھی ملک اس صورتحال کا شکار نہ ہو۔

 

مصنف مہدی حسن نے کہا کہ ’2024 میں باب وولڈ ورلڈ(مصنف)نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا کہ محمد بن سلمان نے امریکی سینیٹر سے کہا گیا ایک جملہ مشہور ہے کہ مجھے بم بنانے کے لیے یورینیئم نہیں چاہیے وہ میں پاکستان سے خرید سکتا ہوں۔ ‘

 

خواجہ آصف نے اس کے جواب میں کہا کہ میرے خیال میں اس کا حقیقت سے تعلق نہیں بلکہ یہ صرف سنسنی خیز بنانے کے لیے پھیلایا گیا اور میں اس بیان کو درست نہیں سمجھتا۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C