توہینِ مذہب مقدمات کی جانچ کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کا حکم
👁️ 429 بار دیکھا گیا
توہینِ مذہب مقدمات کی جانچ کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی اردو) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمات میں سامنے آنے والے سنگین شکوک و شبہات کے پیش نظر وفاقی حکومت کو 30 روز میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا ہے، جو چار ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ دورانِ سماعت متعدد شواہد پیش کیے گئے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور بعض افراد کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کے تحت جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔ ان مقدمات کی بنیاد بیشتر اوقات سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز مواد کی اشاعت یا شیئرنگ بنتی رہی ہے۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ کمیشن کی تشکیل کے لیے درکار اصولی ضابطے (Terms of Reference) بھی وضع کیے جائیں، اور اگر مقررہ مدت میں تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں تو مزید مہلت کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن کی کارروائی براہ راست نشر کی جائے تاکہ عوام تک شفافیت کے ساتھ معلومات پہنچ سکیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکومت سے مشاورت کے بعد عدالت کو کمیشن کی پیش رفت سے آگاہ کریں۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ ان درجنوں شہریوں کی درخواست پر قائم ہوا تھا جن کے رشتہ داروں پر توہین مذہب کے الزامات لگا کر مقدمات قائم کیے گئے، بعض کو سزائیں بھی سنائی گئیں، اور ان کی اپیلیں اب مختلف ہائی کورٹس میں زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کئی سماعتوں کے دوران یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایف آئی اے اور کچھ مخصوص عناصر کے درمیان ملی بھگت سے مذکورہ مقدمات کو جھوٹے شواہد کے ذریعے مضبوط کیا گیا، جس سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے۔
جسٹس اعجاز اسحاق نے بتایا کہ اس درخواست پر اب تک 42 سماعتیں ہو چکی ہیں، کیونکہ کچھ فریقین نے کمیشن کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ دیا جائے۔ عدالت نے ان اعتراضات کو فیصلے میں شامل کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام فریقوں کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت کو یاد دلایا گیا ہے کہ وہ انکوائری ایکٹ کے تحت ایسا کمیشن تشکیل دینے کی مجاز ہے، جو تحقیقاتی اداروں کے افسران کی خدمات حاصل کر سکتا ہے اور اس میں عدلیہ یا مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ افسران شامل کیے جا سکتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کردیا، ریاض اور حوثیوں میں ثالثی کی پیشکش
17/October/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے، امریکی فوج کا دعویٰ
17/October/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
شمالی کوریا کا مصنوعی ذہانت سے لیس جدید تارپیڈو کا تجربہ کامیاب ہونے کا دعویٰ
17/October/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کے خلاف اسرائیلی مدد لینے کا سعودی عرب کو ٹرمپ کا مشورہ
17/October/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
اورکزئی میں پولیس اور سکاؤٹس کی مشترکہ کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک
16/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ساتھ دے گا، شہباز شریف
16/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15615 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11909 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9257 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7517 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5460 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C